سپریم کورٹ آف پاکستان نے ای او بی آئی کرپشن کیس میں ٹرائل کورٹ سے اب تک کی کارروائی کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت تیز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
مزید پڑھیں: سسر کی ملکیت حق مہر میں دینے کا دعویٰ مسترد، سپریم کورٹ کا فیصلہ
جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران عدالت میں ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور پیش ہوئے جبکہ ملزمان کی ضمانت قبل از گرفتاری سے متعلق درخواستوں پر بھی سماعت ہوئی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم عمار احمد خان اور دیگر ملزمان کے خلاف کیس زیر سماعت ہے۔ درخواست گزار کی جانب سے وکیل علی ظفر عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران ای او بی آئی کی جانب سے ملزمان کی ضمانت منسوخی کی درخواستوں پر نوٹسز جاری کیے گئے۔ ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ کیس کی پیروی مؤثر انداز میں کی جائے گی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمان پر ایک ارب روپے سے زائد رقم لینے کے باوجود پلاٹس نہ دینے کا الزام ہے۔
مزید پڑھیں: جام مہتاب حملہ کیس، سپریم کورٹ نے ملزمان کی ضمانت کی توثیق کر دی
جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ ادارے کو رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کا قانونی اختیار نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ 13 سال میں رقم دینے کے باوجود پلاٹ نہ ملنا سنگین معاملہ ہے۔
عدالت نے کارروائی مکمل ہونے کے بعد کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔














