مودی کی مہم برائے کفایت شعاری الٹی پڑگئی، روپیہ گرگیا، مارکیٹ میں شدید مندی

پیر 11 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے کفایت شعاری اپنانے کی اپیل اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پیر کے روز بھارتی شیئرز اور روپیہ شدید دباؤ کا شکار رہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو جہنم کا گڑھا قرار دے دیا، مودی حکومت کی عالمی سطح پر سبکی

دنیا تیسرے بڑے تیل درآمد کرنے اور استعمال کرنے والے ملک بھارت نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود بھارت ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں ابھی تک ایندھن کی قیمتیں نہیں بڑھائی گئیں۔

پیر کے روز نفٹی 50 انڈیکس 1.49 فیصد کمی کے بعد 23,815.85 پوائنٹس پر بند ہوا جبکہ بی ایس ای سینسیکس 1.7 فیصد گر کر 76,015.28 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔ دوسری جانب بھارتی روپیہ بھی دباؤ میں رہا اور ڈالر کے مقابلے میں 95.31 کی ریکارڈ کم ترین سطح پر بند ہوا جو ایک ہی دن میں تقریباً 0.9 فیصد کی بڑی گراوٹ ہے۔

برینٹ خام تیل کی قیمت میں بھی 2.6 فیصد سے زائد اضافہ ہوا اور یہ تقریباً 104 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ اس اضافے کی ایک وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے ساتھ امن مذاکرات کی تجویز پر ایرانی جواب کو ناقابل قبول قرار دینا بھی بتایا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیے: پہلگام کا ایک سال: کانگریس کی نریندر مودی کی پالیسیوں پر شدید تنقید، خارجہ پالیسی ناکام قرار

کیجریوال ریسرچ اینڈ انویسٹمنٹ سروسز کے بانی ارون کیجریوال کے مطابق مارکیٹ میں یہ گراوٹ وزیرِ اعظم مودی کے بیانات پر فوری ردعمل تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان امن کوششوں کے باوجود تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے نیچے نہیں آ رہیں جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔

بھارتی مارکیٹ کے 16 میں سے 13 بڑے شعبوں میں خسارہ دیکھا گیا جبکہ چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کے شیئرز میں بھی تقریباً 1.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

آئل مارکیٹنگ کمپنیوں انڈین آئل، بی پی سی ایل اور ایچ پی سی ایل کے شیئرز میں 2.3 سے 3 فیصد تک کمی آئی جبکہ ریلائنس انڈسٹریز کے شیئرز 3.3 فیصد گر گئے۔

سیاحت اور سفر سے متعلق کمپنیوں جیسے انڈین ہوٹلز، لیمن ٹری، چیلیٹ ہوٹلز، تھامس کک اور یاترا آن لائن کے شیئرز میں بھی ایک سے 4.5 فیصد تک کمی دیکھی گئی جبکہ ایئرلائن کمپنی انڈیگو کے شیئرز تقریباً 5 فیصد گر گئے۔

زیورات بنانے والی کمپنیوں کے شیئرز بھی شدید دباؤ کا شکار رہے۔ ٹائٹن، سینکو گولڈ اور کلیان جیولرز کے شیئرز میں 6.7 سے 9.3 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی۔

اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے شیئرز 4.5 فیصد گر گئے جس کی وجہ سہ ماہی منافع کی توقعات پوری نہ ہونا بنی۔ اس کے نتیجے میں سرکاری بینکوں کے شعبے میں مجموعی طور پر 2.5 فیصد کمی آئی۔

مزید پڑھیں: بھارت: اربوں روپے کے ریفائنری منصوبے میں افتتاح سے قبل آگ لگ گئی، مودی کا دورہ ملتوی

تاہم کچھ کمپنیوں کے نتائج مثبت بھی رہے۔ ہنڈائی موٹر انڈیا کے شیئرز 2.8 فیصد بڑھے کیونکہ کمپنی کے سہ ماہی منافع میں توقع سے کم کمی آئی جبکہ زرعی کیمیکلز بنانے والی کمپنی یو پی ایل کے شیئرز 3.6 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp