چین میں رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران شادیوں کی رجسٹریشن میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملک میں آبادی کے بحران اور کم ہوتی شرح پیدائش سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین میں 11 منزلہ عمارت سے گرنے والا 4 سالہ بچہ زندہ کیسے بچ گیا؟
چینی وزارت شہری امور کے مطابق جنوری سے مارچ 2026 کے دوران ملک بھر میں تقریباً 16 لاکھ 97 ہزار شادیوں کی رجسٹریشن ہوئی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 6.2 فیصد کم ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد سنہ 2017 کے مقابلے میں تقریباً نصف رہ گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار چین کو درپیش بڑھتے ہوئے آبادیاتی مسائل کی عکاسی کرتے ہیں۔ چین کی آبادی میں مسلسل چوتھے سال کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ شرح پیدائش بھی تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
چین میں روایتی طور پر بچوں کی پیدائش شادی کے بعد ہی کی جاتی ہے جس کی ایک وجہ سماجی و ثقافتی روایات ہیں جبکہ بعض انتظامی قوانین بھی بچوں کی رجسٹریشن اور سرکاری سہولیات کو شادی کے سرٹیفکیٹ سے منسلک کرتے ہیں۔
مزید پڑھیے: چین: تمام تر حکومتی سہولیات کے باوجود چینی مزید بچے پیدا کرنے کو تیار نہیں، کیوں؟
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر شادیوں اور شرح پیدائش میں یہی کمی برقرار رہی تو مستقبل میں چین کو افرادی قوت کی کمی اور معمر آبادی میں اضافے جیسے سنگین معاشی و سماجی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
چینی حکومت نے نوجوانوں کو شادی اور بچوں کی پیدائش کی جانب راغب کرنے کے لیے مختلف اقدامات شروع کیے ہیں جن میں خاندانی مالی معاونت، بچوں کی نگہداشت کے لیے سہولیات اور زچگی سے متعلق طبی اخراجات میں کمی شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: چین: بچہ پیدا کریں اور حکومت سے 1،500 ڈالر لے لیں، بیک ڈیٹ کی بھی سہولت
اس کے باوجود بڑھتے معاشی دباؤ، مہنگی رہائش، ملازمتوں سے متعلق غیر یقینی صورتحال اور بدلتے سماجی رجحانات کو شادیوں میں کمی کی اہم وجوہات قرار دیا جا رہا ہے۔














