پنجابی فلم انڈسٹری اور گلوکاری کے عالمی افق پر چمکنے والے ستارے دلجیت دوسانجھ نے کینیڈا میں اپنے حالیہ کنسرٹ کے دوران ہونے والے ‘خالصتان جھنڈوں’ کے تنازع پر بالآخر اپنا تفصیلی ردعمل جاری کردیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر اپنی اسٹوریز کے ذریعے جاری کردہ ایک دھماکہ خیز بیان میں گلوکار نے واضح کیا کہ وہ اپنے مداحوں کے تحفظ پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ’جتنے مرضی پرچم لہرا لیں‘، دلجیت دوسانجھ کا کنسرٹ میں خالصتان کے جھنڈے لہرانے پر ردعمل
دلجیت دوسانجھ نے اپنے پیغام میں کہا کہ باہر کھڑے ہو کر احتجاج کرنا ہر کسی کا جمہوری حق ہے، لیکن اگر کوئی شخص حدود پار کر کے اندر آنے اور ان کے مداحوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کرے گا تو اسے ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے جھنڈوں اور بینرز کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی مداح جھنڈا لاتا ہے تو اس کا مقصد اپنی شناخت اور فنکار سے محبت کا اظہار ہوتا ہے۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر وہی بینر لے کر کوئی شخص باہر مداحوں کو گالیاں دے اور پھر اندر آ کر بدتمیزی کرے، تو یہ عمل ناقابلِ قبول ہے۔
گلوکار نے اس حساس معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا کہ اصل مسئلہ کسی جھنڈے یا بینر کا نہیں بلکہ اس کے پیچھے چھپی نیت کا ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے سیکیورٹی کو سخت ہدایات دے رکھی ہیں کہ پروگرام میں خلل ڈالنے والے کسی بھی شخص کو فوری طور پر باہر نکال دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ’مجھے بھی بالی ووڈ کی ضرورت نہیں‘، دلجیت دوسانجھ نے تنقید پر واضح اعلان کردیا
دلجیت نے اپنے خلاف پھیلائے جانے والے ‘جعلی بیانیے’ کی بھی سختی سے تردید کی اور کہا کہ انہوں نے کبھی کسی بینر کے خلاف بات نہیں کی، لہٰذا ان کے موقف کو غلط رنگ نہ دیا جائے۔
واضح رہے کہ یہ تنازع رواں سال اپریل میں کیلگری میں ہونے والے ان کے ‘اورا ٹور’ کے دوران پیدا ہوا تھا جب کچھ مظاہرین نے پرو-خالصتان جھنڈے لہرائے تھے۔ دلجیت دوسانجھ نے اپنے پیغام کا اختتام ‘محبت اور امن’ کی دعا کے ساتھ کیا ہے۔














