ایلون مسک سمیت کونسی کاروباری شخصیات ٹرمپ کے ہمراہ چین جائیں گی؟

منگل 12 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس ہفتے اپنے دورۂ چین کے دوران کاروباری اور ٹیکنالوجی شعبے کی بڑی امریکی شخصیات کو بھی ساتھ لے جائیں گے۔

بی بی سی کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ مجموعی طور پر 17 امریکی کاروباری شخصیات سرکاری وفد کا حصہ ہوں گی۔

وفد میں ٹم کک، ایلون مسک، لیری فنک سمیت بوئنگ، جے پی مورگن، ویزا، میٹا اور کارگل جیسی کمپنیوں کے اعلیٰ حکام بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا چین سے کیوں الجھنا نہیں چاہتا؟

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکا اور چین کے درمیان معاشی اور ٹیکنالوجی شعبوں میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

ٹرمپ اپنے دورے کے دوران چینی صدر شی جی پنگ سے ملاقات کریں گے، جسے دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

وفد میں شامل دیگر نمایاں شخصیات میں مائیکل می باخ، ڈیناپاول مک کورمک، رائن مک آئنرنی، اسٹیفن شوارزمن، برائن سائیکس، جین فریزر اور ڈیوڈ سولومن بھی ہیں۔

تاہم کمپیوٹر چپس اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں امریکا اور چین کی رقابت کے تناظر میں جینسن ہوانگ کی عدم موجودگی خاص طور پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

گزشتہ ہفتے انہوں نے امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی سے گفتگو میں کہا تھا کہ اگر انہیں دعوت دی جاتی تو چین میں امریکا کی نمائندگی کرنا ان کے لیے اعزاز ہوتا۔

اسی طرح چک رابنس کو بھی وفد میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تھی، تاہم کمپنی کے مطابق مالی نتائج کے اعلانات کے باعث وہ اس دورے میں شریک نہیں ہو سکیں گے۔

مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر کے درمیان متوقع ملاقات کے حوالے سے غیریقینی صورتحال برقرار

امریکی وفد سوشل میڈیا، صارفین کی ٹیکنالوجی، کمپیوٹر چپس، مالیاتی خدمات اور صنعتی پیداوار سمیت مختلف شعبوں کی نمائندگی کرے گا۔

الومینا کی ترجمان نے کہا ہے کہ کمپنی کو امید ہے کہ یہ دورہ تعلقات مضبوط بنانے اور ’پریسیژن میڈیسن‘ کے مستقبل کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوگا۔

ٹرمپ کا دورۂ چین دونوں ممالک کے درمیان نازک تجارتی جنگ بندی کا بھی اہم امتحان سمجھا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا ایران معاہدے میں چین کی انٹری، بڑی ہلچل

اس سے قبل دونوں ممالک ایک دوسرے پر 100 فیصد سے زائد ٹیرف عائد کر چکے ہیں۔

مذکورہ ٹیرف اکتوبر 2025 میں جنوبی کوریا میں ٹرمپ اور شی جن پنگ کی آخری ملاقات کے بعد عارضی طور پر معطل کیے گئے تھے۔

دوسری جانب امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ بھی آئندہ ملاقات پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں:

اطلاعات کے مطابق یہی تنازع ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ بنا۔

امریکہ توقع کر رہا ہے کہ چین، جو ایران سے سستا تیل درآمد کرتا ہے، تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے میں کردار ادا کرے گا۔

اگرچہ چین بھی اس تنازع کے خاتمے کا خواہاں ہے، تاہم اس کی وسیع تیل ذخائر اور متنوع توانائی ذرائع نے اسے خطے کے کئی دیگر ممالک کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں رکھا ہوا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp