کراچی میں پلاٹوں کی کمرشل کیٹیگری کی تبدیلی پر عائد پابندی کا فیصلہ واپس

منگل 12 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی آئینی عدالت نے کراچی میں غیرقانونی تعمیرات سے متعلق اہم کیس نمٹاتے ہوئے بلڈرز کو بڑا ریلیف فراہم کر دیا۔

عدالت نے رہائشی پلاٹوں کی کمرشل کیٹیگری میں تبدیلی پر عائد پابندی ختم کرتے ہوئے اس حوالے سے سابق فیصلہ واپس لے لیا۔

عدالت نے واضح کیا کہ پارکس، اسپتالوں، کھیل کے میدانوں اور دیگر عوامی مقامات کی کیٹیگری تبدیل نہیں کی جا سکے گی۔

یہ بھی پڑھیں: آن لائن بینک فراڈ کیس میں وفاقی آئینی عدالت کا شہری کے حق میں فیصلہ

سماعت کے دوران عدالت نے قرار دیا کہ ٹاؤن پلاننگ اور بلڈنگ قوانین پر عملدرآمد متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ وفاقی آئینی عدالت سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی یا کسی دوسرے ادارے کے کام میں مداخلت نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ادارہ قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو متاثرہ فریق متعلقہ فورم یا ہائیکورٹ سے رجوع کرے۔

مزید پڑھیں:آئینی عدالت میں التوا مانگنے پر جسٹس عامر فاروق برہم، وکلا کی سرزنش

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہائیکورٹ کے فیصلے سے اگر کسی کی دادرسی نہ ہو تو وہ اپیل دائر کر سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ازخود نوٹس کا اختیار اب ختم ہوچکا ہے اور اگر بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے تو اس کے لیے باقاعدہ قانون موجود ہے۔

عدالت نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ ٹاؤن پلاننگ کے ادارے نیک نیتی سے اپنے فرائض انجام دیں گے۔

مزید پڑھیں: انصاف پر ٹیکس؟ بائیو میٹرک فیس کے خلاف آئینی عدالت میں درخواست دائر

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سپریم کورٹ کا پلاٹوں کی کیٹیگری تبدیل کرنے سے متعلق فیصلہ کسی ادارے کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔

اس موقع پر جسٹس ارشد حسین نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی افسر قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔

جسٹس عامر فاروق نے مزید کہا کہ عدالت قانون نہیں بنا سکتی بلکہ صرف موجودہ قوانین پر عملدرآمد کرا سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp