آبنائے ہرمز بحران: پاکستان کا روس سے تیل کی درآمدات بڑھانے کا فیصلہ

منگل 12 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان نے آبنائے ہرمز میں جاری بحران کے باعث روس سے تیل کی درآمدات بڑھانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

ماسکو میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا ہے کہ بحران کے بعد روسی توانائی وسائل کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔

روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی سفیر نے کہاکہ پاکستان اپنی توانائی ضروریات کا صرف 10 فیصد خود پیدا کرتا ہے جبکہ باقی ضروریات درآمدات کے ذریعے پوری کی جاتی ہیں، جن کا زیادہ تر انحصار خلیجی ممالک پر ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستانی کوششوں سے امریکا اور ایران کے درمیان پیشرفت: آبنائے ہرمز میں ’پروجیکٹ فریڈم‘ عارضی طور پر معطل

انہوں نے کہاکہ اسی وجہ سے ایک سنگین بحران پیدا ہوا اور ہمیں متبادل ذرائع تلاش کرنا پڑے۔

روس اور وسطی ایشیا سے پائپ لائن منصوبوں پر غور

فیصل نیاز ترمذی کے مطابق مستقبل میں ترکمانستان اور روس سے جنوبی ایشیا تک متبادل پائپ لائن منصوبوں پر بھی بات چیت کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ روس تیل اور توانائی وسائل کا ایک بڑا فراہم کنندہ ہے، اسی لیے پاکستان اب وسطی ایشیا اور روس سے پائپ لائن بچھانے کے امکانات پر بھی غور کر رہا ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی سپلائی متاثر

رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل کی سپلائی شدید متاثر ہوئی، جس کے بعد پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ایران نے آبنائے ہرمز کو امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے ردعمل میں بند کیا تھا۔ یہ حملے 28 فروری کو شروع ہوئے اور 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی کے بعد ختم ہوئے۔

تاہم جنگ بندی میں توسیع کے باوجود دونوں فریق مستقل امن معاہدے اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے معاملے پر اب بھی اختلافات کا شکار ہیں۔

دنیا کی 20 فیصد تیل سپلائی آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے

آبنائے ہرمز خلیج میں داخلے کا مرکزی راستہ اور سعودی عرب، عراق اور قطر سمیت کئی ممالک کی برآمدات کا اہم ذریعہ ہے۔ دنیا بھر میں تیل اور مائع قدرتی گیس کی قریباً پانچواں حصہ سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔

پیٹرول اور ڈیزل مہنگا

بحران کے دوران وفاقی حکومت نے آئندہ ہفتے کے لیے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں قریباً 15 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تجاویز مسترد کیے جانے کے بعد مذاکرات کا کتنا امکان ہے؟

پیٹرول کی قیمت 399 روپے 86 پیسے سے بڑھ کر 414 روپے 78 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 399 روپے 58 پیسے سے بڑھ کر 414 روپے 58 پیسے فی لیٹر ہو گئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں بھی 13 روپے 91 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا۔ پیٹرول پر لیوی 103 روپے 50 پیسے سے بڑھا کر 117 روپے 41 پیسے جبکہ ڈیزل پر لیوی 28 روپے 69 پیسے سے بڑھا کر 42 روپے 60 پیسے فی لیٹر کر دی گئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp