ایئر انڈیا کی لندن جانے والی پرواز اے آئی 171 کے گزشتہ سال احمد آباد میں پیش آنے والے ہولناک حادثے کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ آئندہ ایک ماہ میں جاری ہونے کی توقع ہے۔
مذکورہ حادثے میں 260 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ تحقیقاتی رپورٹ سے قبل ایئر انڈیا کو شدید مالی، انتظامی اور آپریشنل مشکلات کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حادثات اور پاکستانی فضائی حدود کی بندش، ایئر انڈیا کو اربوں ڈالر نقصان کا سامنا
میڈیا رپورٹس کے مطابق کمپنی کو مارچ 2026 تک 2.4 ارب ڈالر خسارے کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ چیف ایگزیکٹو آفیسر کیمبل ولسن بھی مستعفی ہو چکے ہیں۔
ٹاٹا گروپ، جس نے 2022 میں ایئر انڈیا کا کنٹرول سنبھالا تھا، اب کمپنی میں اخراجات کم کرنے کے اقدامات پر غور کر رہا ہے۔
Air India crisis deepens ahead of final Ahmedabad crash reporthttps://t.co/Ps9leqYqTF
— Augusto Amato (@augusto_amato) May 13, 2026
دوسری جانب سنگاپورایئرلائنز کی بڑھتی دلچسپی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جو ایئر انڈیا میں 25 فیصد سے زائد شیئرزرکھتی ہے۔
گزشتہ ایک سال کے دوران ایئر انڈیا کو متعدد حفاظتی اور آپریشنل مسائل کا سامنا رہا۔
بھارت کے فضائی ریگولیٹر نے کمپنی میں 51 حفاظتی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی، جبکہ ایک پرواز کو 8 گھنٹے بعد کینیڈا کی فضائی حدود میں داخلے کی اجازت نہ ہونے پر واپس دہلی لوٹنا پڑا۔
مزید پڑھیں: ایئر انڈیا کے سی ای او کیمپبل ولسن مستعفی، خساروں اور تحقیقات کا دباؤ
ماہرین کے مطابق تاخیر سے طیاروں کی فراہمی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں، روپے کی قدر میں کمی اور بعض بین الاقوامی روٹس کی بندش نے بھی کمپنی کے بحران میں اضافہ کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ احمد آباد حادثے کی حتمی رپورٹ ایئر انڈیا کی ساکھ اور مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، جبکہ کمپنی کو مالی بحران سے نکالنے کے لیےمزید سرمایہ کاری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔














