پورٹ قاسم اتھارٹی نے ایل این جی ہینڈلنگ کے شعبے میں ایک نیا قومی ریکارڈ قائم کرتے ہوئے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ایل این جی کارگو کامیابی سے اتار دیا۔
کیو فلیکس ایل این جی کیریئرایم وی الخریطیات کے ذریعے آنے والا یہ کارگو بحفاظت اینگرو ایل این جی ٹرمینل پر منتقل کیا گیا، جو ملکی بحری تجارت کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
The Q-Flex LNG carrier Al Kharaitiyat is scheduled to berth at Engro LNG terminal at Port Qasim today (Wednesday). Expected to arrive between 8:00am and 9:00am, vessel is carrying 216,300 cubic metres of LNG. https://t.co/p2JSFa9YAN
— Syed Khalid Mustafa (@SkmMustafa) May 13, 2026
ترجمان پورٹ قاسم اتھارٹی کے مطابق، بحری جہاز علی الصبح پورٹ قاسم کے چینل میں داخل ہوا اور صبح 10 بجے اینگرو ایل این جی ٹرمینل پر لنگر انداز ہوا۔
یہ پورٹ قاسم کی تاریخ کا اب تک کا سب سے گہرا اور مکمل کیو فلیکس آپریشن تھا، جس میں جہاز کا ڈرافٹ 12.10 میٹر ریکارڈ کیا گیا جبکہ کارگو کا حجم 210,250 مکعب میٹر یعنی 92,510 میٹرک ٹن ایل این جی پر مشتمل تھا۔

پورٹ حکام کے مطابق کارگو کی محفوظ اور موثر ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے ایل این جی کے 2 پارسل مرحلہ وار اتارے گئے۔
ترجمان نے بتایا کہ بحرِ عرب سے برتھ تک پھیلا ہوا پورٹ قاسم کا تقریباً 49 کلومیٹر طویل نیویگیشن چینل دنیا کے طویل ترین ایل این جی چینلز میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز کشیدگی: قطر سے ترسیل متاثر، پاکستان کا اسپاٹ ایل این جی خریدنے کا فیصلہ
’یہاں جہازوں کی آمدورفت کے دوران جوار بھاٹے اور ڈرافٹ مینجمنٹ انتہائی اہمیت رکھتے ہیں، مون سون سیزن کے آغاز کے باعث اس کامیاب آپریشن کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔‘
پورٹ قاسم اتھارٹی کے مطابق ادارہ ایل این جی کے علاوہ کنٹینرائزڈ کارگو، ڈرائی بلک، لیکویڈ بلک، کوئلہ، چاول، سیمنٹ، اسٹیل اور پیٹرولیم مصنوعات سمیت مختلف تجارتی شعبوں میں بھی ملک کے اہم گیٹ وے کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے۔
مزید پڑھیں: آذربائیجان پاکستان کو ایل این جی کی فراہمی کے لیے تیار، باضابطہ پیشکش کردی
جدید ڈیجیٹل نظام اور 24 گھنٹے آپریشنز کے ذریعے جہازوں کی ہموار آمدورفت کو یقینی بنایا جا رہا ہے، جس سے پاکستان کی تجارتی مسابقت اور معاشی استحکام کو تقویت مل رہی ہے۔
یہ کامیابی قطر انرجی، ناکیلات، اینگرو ایل این جی ٹرمینل، پاکستان اسٹیٹ آئل اور پورٹ قاسم اتھارٹی کی میرین آپریشنز ٹیم کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ قرار دی جا رہی ہے۔














