امریکا کی جانب سے 450 سے زائد نایاب نوادرات کی پاکستان واپسی، اسلام آباد میوزیم میں باضابطہ تقریب

بدھ 13 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا کی جانب سے 450 سے زائد نایاب نوادرات کی پاکستان واپسی کے موقع پر اسلام آباد میوزیم میں ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی، جس میں دونوں ممالک نے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور غیر قانونی اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔

یہ نوادرات، جنہیں ماضی میں غیر قانونی طور پر پاکستان سے باہر لے جایا گیا تھا، امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پاکستانی حکام کے درمیان طویل اور قریبی تعاون کے نتیجے میں برآمد کیے گئے۔

 اب یہ تمام نمونے پاکستان میں محفوظ ہوں گے اور نمائش کے لیے پیش کیے جائیں گے، جس سے عوام اور دانشوروں کو اپنی قدیم ثقافتی میراث کے ایک اہم حصے سے دوبارہ جڑنے کا موقع ملے گا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معاون امریکی وزیر خارجہ برائے جنوبی اور وسطی ایشیائی امور ایس پال کپور نے کہا کہ یہ نمونے پاکستان کی تاریخ کے ان ابواب کی نمائندگی کرتے ہیں جو نسلوں کو ان کے ورثے سے جوڑتے ہیں۔

   

ان نوادرات میں 4 ہزار سال سے زیادہ پرانے ٹیراکوٹا کے مجسمے بھی شامل ہیں، جن کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ان میں سے ہر چیز ایک منفرد کہانی سناتی ہے اور ان سب کا حقیقی تعلق پاکستانی عوام سے ہے جو اب اپنے اصل گھر پہنچ چکے ہیں۔

 ان تمام اشیا کی برآمدگی مین ہٹن ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس کے نوادرات کے انسدادِ اسمگلنگ یونٹ کی تحقیقات کے نتیجے میں ممکن ہوئی، جس نے بین الاقوامی جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائی کی۔

گزشتہ 10 سالوں کے دوران اس یونٹ نے امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکورٹی کے ساتھ مل کر تقریباً 23 ملین ڈالر مالیت کے 514 نوادرات پاکستان کو واپس بھجوائے ہیں۔

واپس آنے والے مجموعے میں دوسری صدی عیسوی کا بدھا پاڈا کا ایک نایاب مجسمہ بھی شامل ہے جس کی مالیت 11 لاکھ ڈالر ہے اور اسے اسی کی دہائی میں پاکستان سے چوری کیا گیا تھا۔ دیگر اہم اشیا میں گندھارن آرٹ کا ایک فرائز، قدیم مہرگڑھ کے 3500 قبل مسیح کے ٹیراکوٹا مجسمے، بودھی ستوا میتریہ کا مجسمہ اور 2023 میں برآمد ہونے والا ایک قدیم گولڈ اسٹراٹو کا سکہ شامل ہے۔

 ان کوششوں کے نتیجے میں نہ صرف قیمتی ورثہ واپس آیا بلکہ اسمگلنگ میں ملوث متعدد افراد کو سزائیں بھی دی گئی ہیں۔ پاکستانی حکام نے اس واپسی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ملک کی متنوع تاریخ کے تحفظ کی جانب اہم قدم قرار دیا اور امریکی تعاون کی ستائش کرتے ہوئے ثقافتی املاک کی غیر قانونی تجارت کو روکنے کے لیے بین الاقوامی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔

 یہ پیشرفت دونوں ملکوں کے درمیان قانون کے نفاذ اور ورثے کی حفاظت کے حوالے سے گہرے تعاون کی عکاسی کرتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp