سابق وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز سیاسی طور پر متحرک، کیا ہیڈ آف پبلک افیئرز کا آفس جوائن کرلیا؟

جمعرات 30 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے سیاسی طور پر دوبارہ متحرک ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اب وہ پارٹی کارکنوں کے مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ پارٹی کو مزید بہتر بنانے کے لیے بھی سیاسی کردار ادا کریں گے۔

حمزہ شہباز شریف کے قریبی ذرائع نے وی نیوز کو بتایا کہ سابق وزیراعلیٰ نے بطور ہیڈ آف پبلک افیئرز اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں اور وزیراعظم سیکریٹریٹ میں قائم دفتر میں کام کا آغاز کر چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: سابق وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کیوں خاموش ہیں؟

قریبی ذرائع کے مطابق انہیں ارکان قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی شکایات سننے، ان کے مسائل حل کرنے اور ایم این ایز کو فنڈز کی فراہمی کے حوالے سے اہم اختیارات دیے گئے ہیں۔

پنجاب میں بھی وہ پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں ایم پی ایز کے مسائل حل کرانے کی کوشش کریں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حمزہ شہباز نے پہلے ہی مختلف وفاقی وزرا سے ملاقاتیں کرلی ہیں اور پیر سے باقاعدہ دفتری امور کا آغاز کردیا ہے۔

اس پیشرفت کو شریف خاندان کے اندر حمزہ شہباز کو دوبارہ سیاسی منظرنامے پر لانے کی طرف اہم قدم قرار دیا جارہا ہے ۔

گزشتہ دنوں نواز شریف کی زیر صدارت مری میں ہونے والی شریف خاندان کی اہم میٹنگ میں یہ فیصلہ ہوا کہ حمزہ شہباز سیاست میں دوبارہ فعال کردار ادا کریں۔

اس میٹنگ میں وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی موجود تھیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف نے حمزہ شہباز کو واضح طور پر کہاکہ وہ پبلک افیئرز کا دفتر جوائن کریں۔ اس سے پہلے بھی خبریں گردش کرتی رہیں کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میں سیاسی کردار ادا کرنا چاہتے ہیں اور انہیں مسلم لیگ ن پنجاب کا صدر بنایا جا سکتا ہے، تاہم یہ فیصلہ ملتوی ہوتا رہا اور کہا گیا کہ پارٹی کے صدر نواز شریف ہی حتمی فیصلہ کریں گے۔

حمزہ شہباز کو ہیڈ آف پبلک افیئرز بنانے کی بات ڈھائی سال قبل بھی سامنے آئی تھی۔ جولائی 2024 میں وفاقی حکومت نے ان کے نام پر پبلک فیسیلیٹیشن یونٹ کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ اس نوٹیفکیشن کے مطابق ان کے دو دفاتر تھے، ایک وزیراعظم آفس میں اور دوسرا لاہور کے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں۔

حمزہ شہباز کو وفاقی وزیر کے برابر درجہ دیا گیا تھا اور 5 رکنی کمیٹی بھی تشکیل دینے کا فیصلہ ہوا تھا۔ اس وقت بھی کہا گیا تھا کہ وہ مری سے واپسی پر عہدہ سنبھالیں گے اور اہم حکومتی امور کے ساتھ پارٹی کارکنوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے، تاہم اندرونی معاملات کی وجہ سے وہ اس دفتر میں نہ بیٹھ سکے۔

پھر نومبر 2024 میں بھی حمزہ شہباز کو چیئرمین پبلک افیئرز یونٹ برائے وزیراعظم تعینات کرنے کی خبریں آئیں جن میں کہا گیا کہ دفتر وزیراعظم آفس کے فرسٹ فلور پر ہوگا اور چاروں صوبوں میں ذیلی دفاتر قائم کیے جائیں گے، مگر یہ منصوبہ بھی عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔

ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف بار بار حمزہ شہباز اور ان کے دوستوں کو کہتے رہے کہ وہ پبلک افیئرز کا دفتر جوائن کریں، مگر حمزہ شہباز نے اس وقت یہ قدم نہیں اٹھایا۔

’نواز شریف نے پہلے انہیں سیاسی کردار ادا کرنے کا واضح طور پر نہیں کہا تھا، لیکن اب یہ عہدہ نواز شریف کی مرضی اور منظوری سے حمزہ شہباز کو دیا گیا ہے۔‘

ذرائع کے مطابق پہلے اس وجہ سے آفس جوائن نہیں کیا گیا کہ اختیارات کے حوالے سے کچھ واضح نہیں تھا، لیکن اب انہیں مکمل اختیارات دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ حمزہ شہباز اب خود وزیراعظم سیکریٹریٹ اور وفاقی حکومت کے معاملات بھی دیکھیں گے۔

حمزہ شہباز اس عہدے پر نئے نہیں ہیں۔ وہ 2008 سے 2018 تک اپنے والد شہباز شریف کے دور میں پنجاب کے پبلک افیئرز ونگ کے چیئرمین رہ چکے ہیں جہاں ان کا بنیادی کام ارکان اسمبلی اور عوامی نمائندوں کی شکایات سننا اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق مسائل حل کرنا تھا۔

اب دوبارہ یہ ذمہ داریاں ملنے کے بعد وہ ایم این ایز کی شکایات براہ راست سننے، ان کے حلقوں کے مسائل حل کرنے اور فنڈز کی فراہمی کے عمل کو ہموار بنانے کا کام کریں گے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق حمزہ شہباز پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے معاملات پر بھی نظر رکھیں گے اور کارکنان کے مسائل حل کرنے کے لیے الگ کمیٹی بھی تشکیل دے سکتے ہیں۔

سینیئر تجزیہ کاروں کے مطابق بظاہر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور حمزہ شہباز کے درمیان کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ حمزہ شہباز مریم نواز کے دورِ حکومت میں بالکل خاموش ہیں اور کوئی مداخلت نہیں کی، تاہم دونوں کی سوچ اور انداز الگ الگ ہے۔

مزید پڑھیں: حمزہ شہباز کو مسلم لیگ (ن) پنجاب کا صدر بنانے کا معاملہ تاحال التوا کا شکار

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مریم نواز زیادہ جارحانہ انداز میں معاملات کو چلانے کی کوشش کرتی ہیں جبکہ حمزہ شہباز شریف سوچ سمجھ کر آگے بڑھتے ہیں۔

تاہم اب مری میں ہونے والے فیصلوں کے بعد حمزہ شہباز باقاعدہ دفتر سنبھال چکے ہیں، تو تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ کردار انہیں ارکان اسمبلی کے ساتھ براہ راست رابطے کا موقع دے گا اور وہ پارٹی کے اندرونی مسائل حل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp