ملک بھر میں ہر سال کتنے جانوروں کی قربانی ہوتی ہے؟

پیر 25 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر ہر سال لاکھوں مسلمان سنتِ ابراہیمیؑ کی پیروی کرتے ہوئے جانوروں کی قربانی کرتے ہیں، جبکہ ملک بھر کی مویشی منڈیاں عید سے کئی ہفتے قبل ہی آباد ہو جاتی ہیں جہاں شہری خوبصورت اور تگڑے جانور خریدنے کے لیے بڑی تعداد میں پہنچتے ہیں۔

پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن (پی ٹی اے) کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال ملک بھر میں عید الاضحیٰ کے موقع پر مجموعی طور پر 74 لاکھ 18 ہزار جانور قربان کیے گئے، جو 2024 کے مقابلے میں 1.62 فیصد زیادہ تھے۔

یہ بھی پڑھیں: قربانی کا جانور خریدنے میں معاون ایپلیکیشن

پی ٹی اے کے مطابق رواں برس 30 لاکھ 27 ہزار 417 گائیں، 2 لاکھ 87 ہزار 946 بھینسیں، 35 لاکھ 81 ہزار 767 بکرے، 4 لاکھ 54 ہزار 231 دنبے اور بھیڑیں جبکہ 67 ہزار 245 اونٹ قربان کیے گئے۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سب سے زیادہ بکرے قربان کیے جاتے ہیں جبکہ گائے دوسرے نمبر پر رہتی ہیں، دیہی علاقوں میں اجتماعی قربانی کے رجحان کے باعث گائے اور بھینس کی مانگ زیادہ ہوتی ہے، جبکہ شہری علاقوں میں بکروں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: قربانی کے جانوروں کی آن لائن خریداری میں ہونے والے فراڈ سے کیسے بچا جائے؟

اس سے قبل سال 2024 میں ملک بھر میں 69 لاکھ 77 ہزار جانور قربان کیے گئے تھے جن کی مجموعی مالیت تقریباً 500 ارب روپے رہی، ان میں 30 لاکھ گائیں، 34 لاکھ بکرے، 4 لاکھ بھیڑیں اور دنبے جبکہ ایک لاکھ اونٹ شامل تھے۔

ماہرین اور مویشی پال کسانوں کے مطابق گزشتہ برسوں کے مقابلے میں قربانی کے جانوروں کی تعداد میں کمی کی بڑی وجہ مہنگائی، چارے اور ٹرانسپورٹ اخراجات میں اضافہ اور عوام کی قوتِ خرید میں کمی رہی۔

مزید پڑھیں: قربانی کا جانور خود ذبح  کرنا ہے تو کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے؟

رپورٹس کے مطابق 2025 میں گائے کی قیمت میں 25 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک کمی دیکھی گئی تھی جبکہ بکرے کی قیمت میں 10 ہزار سے 50 ہزار روپے تک اضافہ ہوا، اونٹوں کی قیمتوں میں بھی اضافے کا رجحان ریکارڈ کیا گیا۔

کراچی، لاہور، فیصل آباد، ملتان، پشاور اور راولپنڈی سمیت ملک کی بڑی مویشی منڈیوں میں عیدالاضحیٰ کے دوران اربوں روپے کا کاروبار ہوتا ہے، قربانی کے اس سیزن سے مویشی پال کسانوں، بیوپاریوں، ٹرانسپورٹرز، چارہ فروشوں، قصابوں اور چمڑے کی صنعت سے وابستہ افراد کو روزگار اور آمدن حاصل ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں: اس شدید گرمی میں قربانی کا جانور کون سی تاریخ سے خریدیں؟

پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کے مطابق قربانی کے بعد حاصل ہونے والی کھالیں ملکی چمڑے کی صنعت کے لیے اہم خام مال فراہم کرتی ہیں، جس سے ملکی برآمدات میں بھی مدد ملتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سنتِ ابراہیمیؑ کی ادائیگی کا جذبہ بدستور فروغ پاتا رہا ہے، جس کے تحت ہر سال اوسطاً 60 سے 75 لاکھ جانور قربان کیے جاتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp