شوگر ملز کیس، جائیدادوں کی فروخت پر پابندی

جمعرات 14 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی آئینی عدالت میں حسیب وقاص شوگر ملز اور عبداللہ شوگر ملز کے خلاف پنجاب حکومت کی اپیل پر سماعت ہوئی، جس کے دوران عدالت نے شوگر ملز کی جائیدادیں تاحکمِ ثانی فروخت کرنے سے روک دیا اور کیس کے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔

یہ بھی پڑھیں:آن لائن بینک فراڈ کیس میں وفاقی آئینی عدالت کا شہری کے حق میں فیصلہ

جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت عدالت نے عبداللہ شوگر ملز کی پراپرٹیز قرقی سے متعلق سابقہ عدالتی فیصلہ معطل کر دیا اور فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید دلائل طلب کر لیے۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب وسیم ممتاز عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ حسیب وقاص شوگر ملز اور عبداللہ شوگر ملز نے کسانوں کی ادائیگیاں نہیں کیں جبکہ ملز نے نیشنل بینک سے بھی قرض حاصل کر رکھا ہے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ کین کمشنر نے عدم ادائیگی پر حسیب وقاص شوگر ملز کے ڈائریکٹرز اور شیئر ہولڈرز کی جائیدادوں کی قرقی کا حکم دیا تھا، جبکہ اسی فیصلے کے تحت عبداللہ شوگر ملز کی پراپرٹیز بھی قرق کی گئی تھیں۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ دونوں شوگر ملز نے کسانوں اور نیشنل بینک کو ادائیگیاں نہیں کیں، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس سب کا تعلق دور تک ہوگا۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ کی تو ہمت ہے ویسے‘۔

یہ بھی پڑھیں:وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ، مری میں 577 کنال زمین کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کے خلاف دائر اپیلیں خارج

بعد ازاں عدالت نے واضح کیا کہ شوگر ملز اپنی جائیدادیں تاحکمِ ثانی فروخت نہیں کر سکتیں۔

ریکارڈ کے مطابق عبداللہ شوگر ملز نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا، جہاں ان کی جائیدادوں کی قرقی کا حکم کالعدم قرار دیا گیا۔ پنجاب حکومت نے یہ فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، اور بعد ازاں وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے بعد یہ کیس وہاں منتقل کر دیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp