عیدالاضحیٰ قریب آتے ہی گھروں میں قربانی کے گوشت کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے، تاہم گرمی کے موسم میں گوشت کو خراب ہونے سے بچانا ایک اہم مسئلہ بن جاتا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق اگر گوشت کو مناسب طریقے سے محفوظ نہ رکھا جائے تو اس میں جراثیم پیدا ہو سکتے ہیں، جو مختلف بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ جدید سہولیات کے ساتھ ساتھ آج بھی کئی لوگ گوشت محفوظ رکھنے کے روایتی طریقے استعمال کرتے ہیں، جو برسوں سے آزمودہ سمجھے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بلوچستان میں عید قربان کے دسترخوان: ذائقوں سے بھرپور علاقائی پکوانوں کی کہانی
ماہرین کے مطابق گوشت محفوظ رکھنے کا سب سے پرانا اور عام طریقہ اسے نمک لگا کر خشک کرنا ہے۔ اس طریقے میں گوشت کے باریک ٹکڑے کیے جاتے ہیں، پھر ان پر مناسب مقدار میں نمک لگایا جاتا ہے۔ بعد ازاں گوشت کو دھوپ یا ہوا دار جگہ پر لٹکا دیا جاتا ہے تاکہ اس کی نمی ختم ہو جائے۔ خشک ہونے کے بعد گوشت کئی ہفتوں بلکہ مہینوں تک محفوظ رہ سکتا ہے۔

اسی طرح گوشت کو دھواں دے کر محفوظ کرنے کی روایت بھی قدیم طریقوں میں شامل ہے۔ اس عمل میں لکڑی یا کوئلے کے دھوئیں کے ذریعے گوشت کو آہستہ آہستہ خشک کیا جاتا ہے۔ دھواں گوشت میں موجود نمی کم کرنے کے ساتھ جراثیم کی افزائش کو بھی روکتا ہے، جس سے گوشت زیادہ عرصے تک قابل استعمال رہتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض لوگ گوشت کو مصالحہ اور نمک لگا کر بھی محفوظ کرتے ہیں۔ اس طریقے میں گوشت پر نمک، سرکہ اور مخصوص مصالحے لگا کر اسے بند برتن میں رکھا جاتا ہے، جس سے گوشت جلد خراب نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں:عید قربان پر سکردو کی مویشی منڈی میں یاک کی دھوم
ڈاکٹروں کے مطابق قربانی کے فوراً بعد گرم گوشت کو بند تھیلوں میں نہیں رکھنا چاہیے بلکہ پہلے اسے ٹھنڈی اور ہوا دار جگہ پر پھیلانا چاہیے تاکہ حرارت خارج ہو سکے۔ اس کے بعد گوشت کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرکے فریج یا فریزر میں رکھنا زیادہ محفوظ طریقہ سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر گوشت سے بدبو آئے، رنگ تبدیل ہو جائے یا وہ چپچپا محسوس ہو تو اسے استعمال نہیں کرنا چاہیے کیونکہ خراب گوشت صحت کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
غذائی ماہرین کے مطابق روایتی طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ صفائی اور احتیاط کا مکمل خیال رکھا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ جدید سہولیات اور پرانے طریقوں کو یکجا کرکے گوشت کو زیادہ دیر تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔












