جنوری 2025 تا حال: ہر ہفتے ایک فلسطینی بچہ صیہونی فورسز کے ہاتھوں شہید، یونیسیف

منگل 12 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسیف نے انکشاف کیا ہے کہ جنوری 2025 سے اب تک مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں کم از کم 70 فلسطینی بچے شہید ہو چکے ہیں یعنی اوسطاً ہر ہفتے ایک فلسطینی بچہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’سنسر شپ قبول نہیں‘،غزہ ڈاکیومنٹری کے ایوارڈ یافتہ فلم ساز کی بی بی سی پر کڑی تنقید

منگل کو جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے بتایا کہ شہید ہونے والے 93 فیصد بچوں کو اسرائیلی فورسز نے نشانہ بنایا جبکہ 850 سے زائد بچے زخمی ہوئے جن میں زیادہ تر کو براہ راست گولیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

جیمز ایلڈر نے کہا کہ بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں اور اسرائیلی حملوں کی قیمت فلسطینی بچے ناقابلِ برداشت حد تک ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ تشدد صرف براہِ راست حملوں تک محدود نہیں بلکہ ان بنیادی نظاموں کو بھی مسلسل تباہ کیا جا رہا ہے جن پر بچوں کی زندگی اور نشوونما کا انحصار ہوتا ہے جن میں گھر، اسکول، پانی کا نظام اور صحت کی سہولیات شامل ہیں۔

یونیسیف کے مطابق صرف سنہ 2026 کے پہلے 4 ماہ میں 2 ہزار 500 سے زائد فلسطینی بے گھر ہوئے جن میں ایک ہزار 100 بچے بھی شامل ہیں۔ یہ تعداد پورے سال 2025 میں بے گھر ہونے والوں سے بھی زیادہ ہے۔

مزید پڑھیے: غزہ کے حق میں آواز اٹھائی تو کام ملنا بند ہوگیا لیکن میں خاموش نہیں رہوں گی، امریکی اداکارہ کا دو ٹوک موقف

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سنہ 2026 کے دوران تعلیمی اداروں سے متعلق 99 واقعات ریکارڈ کیے گئے جن میں بچوں کی شہادت، زخمی ہونا، گرفتاری، اسکولوں کی مسماری اور طلبہ کو اسکول جانے سے روکنا شامل ہے۔

جیمز ایلڈر نے کہا کہ اسکول جو بچوں کے لیے تحفظ اور استحکام کی علامت ہونے چاہییں اب خوف کی جگہ بنتے جا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ انسانی بحران مزید سنگین ہو رہا ہے، پانی کے نظام کو نقصان پہنچ رہا ہے اور بچوں کی گرفتاریوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

یونیسیف کے مطابق اس وقت مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والے 347 فلسطینی بچے اسرائیلی فوجی حراست میں ہیں، جو گزشتہ 8 برسوں کی بلند ترین تعداد ہے۔ ان میں سے نصف سے زیادہ بچوں کو بغیر فردِ جرم کے انتظامی حراست میں رکھا گیا ہے۔

جیمز ایلڈر نے عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی بچوں کی تکلیف کو معمول کا حصہ نہیں بننے دینا چاہیے۔

مزید پڑھیں: ’او وی خوب دیہاڑے سَن‘، خوشیاں لانے والی سردیاں اور بارشیں اب غزہ والوں کے دل کیوں دہلا دیتی ہیں؟

انہوں نے اسرائیلی حکام اور بااثر ممالک پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق فلسطینی بچوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp