وفاقی آئینی عدالت نے کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کے سابق ایچ آر منیجر انس ارباب کی برطرفی کے خلاف دائر اپیل خارج کردی ہے۔
جمعرات کے روز وفاقی آئینی عدالت میں جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے سماعت کے بعد سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے، جس کے تحت مذکورہ افسر کی برطرفی کالعدم قرار دی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ، مری میں 577 کنال زمین کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کے خلاف دائر اپیلیں خارج
سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ کسی بھی شخص کو قانونی ٹرائل کے بغیر سزا نہیں دی جاسکتی۔
عدالت نے نوٹ کیا کہ سندھ ہائیکورٹ کے ریکارڈ کے مطابق ملزم کے خلاف کوئی باقاعدہ انکوائری نہیں ہوئی تھی، بلکہ کے پی ٹی نے صرف فیکٹ فائنڈنگ کی تھی جسے قانونی طور پر انکوائری تصور نہیں کیا جاسکتا۔
عدالت نے مزید واضح کیا کہ چونکہ ایچ آر منیجر اب ریٹائر ہوچکے ہیں، اس لیے قانون کے تحت ان کے خلاف دوبارہ انکوائری بھی ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آن لائن بینک فراڈ کیس میں وفاقی آئینی عدالت کا شہری کے حق میں فیصلہ
کے پی ٹی کے وکیل نے موقف اختیار کیا تھا کہ انس ارباب نے غیر قانونی بھرتیاں کیں اور ایف آئی اے نے ان کے گھر سے فائلیں برآمد کیں، تاہم عدالت نے قانونی تقاضے پورے نہ ہونے پر کے پی ٹی کی درخواست مسترد کردی۔
اس فیصلے کے نتیجے میں سندھ ہائیکورٹ کا وہ حکم برقرار رہا ہے جس میں افسر کو ریٹائرمنٹ عمر کی بنیاد پر پنشن اور مراعات دینے کا کہا گیا تھا۔













