قومی اسمبلی کے متعدد ارکان نے گزشتہ روز ایوان سمیت ملک بھر میں سست رفتار انٹرنیٹ کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں پیپر لیس نظام متعارف کرانے کی حالیہ کوششیں کمزور انٹرنیٹ کے باعث متاثر ہو رہی ہیں۔
قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفیٰ شاہ نے ارکان کو یاد دلایا کہ ایوان کے امور کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پارلیمانی کارروائی کو خودکار بنایا جا رہا ہے اور جلد بلوں سمیت دیگر دستاویزات کی کاغذی تقسیم ختم کر دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ تمام ارکان کو پیپر لیس کارروائی اور کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ٹیبلیٹس فراہم کیے گئے ہیں جبکہ کاغذ کے استعمال کو کم سے کم کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انٹرنیٹ ٹریفک کی لوکلائزیشن لازمی، پی ٹی اے کا نیا فریم ورک نافذ
تاہم نعیمہ کشور نے شکایت کی کہ وہ پیپر لیس نظام سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں مگر خراب انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کے باعث گزشتہ ایک گھنٹے سے دستاویزات ڈاؤن لوڈ نہیں کر سکیں۔
انہوں نے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ سے مسئلہ فوری حل کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ ارکان کو سرکاری مواد بروقت دستیاب ہو سکے۔
بعد ازاں ڈپٹی اسپیکر نے متعلقہ حکام کو ایوان میں انٹرنیٹ کے مسئلے کے حل کی ہدایت جاری کی۔
My question in the National Assembly today:
Despite the 5G auction and repeated promises of digital advancement, Pakistanis continue to face slow internet speeds, connectivity issues, and frequent disruptions.
What is the government’s clear timeline for the rollout of reliable… pic.twitter.com/ZYY8DlD6ox
— Dr. Sharmila Sahibah Faruqui (Phd) s.i (@sharmilafaruqi) May 14, 2026
ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ ارکان اسپیکر کی جانب سے اجلاسوں کے دوران ٹیبلیٹس کے استعمال سے متعلق ہدایات پر عمل نہیں کر رہے، جس کی ممکنہ وجہ ڈیجیٹل آلات سے ناواقفیت ہو سکتی ہے۔
بعض ارکان نے قومی اسمبلی میں خصوصی سہولت ڈیسک قائم کرنے کی تجویز بھی دی تاکہ ڈیجیٹل نظام استعمال کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنے والے اراکین کی مدد کی جا سکے۔
پیپلز پارٹی کی رکن شرمیلا فاروقی سمیت دیگر ارکان نے ملک بھر میں انٹرنیٹ کی سست رفتاری پر سوال اٹھاتے ہوئے دریافت کیا کہ آیا حالیہ اسپیکٹرم نیلامی سے صارفین کو بہتر انٹرنیٹ سہولیات میسر آ سکیں گی یا نہیں۔
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کشیدگی: کن علاقوں کی انٹرنیٹ سروس بھی متاثر ہو سکتی ہے؟
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ اسپیکٹرم نیلامی کے بعد انٹرنیٹ سروسز میں بہتری کی توقع ہے کیونکہ اس اقدام کا مقصد ملک کے ٹیلی کمیونی کیشن انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 2022 میں ٹیلی کام آپریٹرز نے لیٹر آف کریڈٹ کھولنا بند کر دیے تھے جس سے آلات کی درآمد اور نیٹ ورک توسیع متاثر ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈالر کی قدر میں استحکام آنے کے بعد ٹیلی کام شعبے اور انفراسٹرکچر کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔
شزا فاطمہ خواجہ نے حالیہ عمل کو دنیا کی سب سے بڑی اسپیکٹرم نیلامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان میں کنیکٹیویٹی اور ڈیجیٹل سروسز بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
ڈیجیٹل ہراسانی اور آن لائن فراڈ پر تشویش
اجلاس کے دوران ارکان اسمبلی نے ڈیجیٹل ہراسانی، آن لائن فراڈ اور ذاتی معلومات کی چوری پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکام باقاعدگی سے شہریوں کو آگاہ کرتے ہیں کہ وہ ون ٹائم پاس ورڈز اور پن کوڈز نامعلوم افراد کے ساتھ شیئر نہ کریں۔
مزید پڑھیں: 5جی اسپیکٹرم کی نیلامی: کیا انٹرنیٹ کے مسائل ختم ہوجائیں گے؟
انہوں نے کہا کہ عوامی آگاہی ڈیجیٹل فراڈ کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور اس حوالے سے کچھ بہتری بھی دیکھنے میں آئی ہے۔
تاہم پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری نے زور دیا کہ آن لائن دھوکہ دہی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر جامع اور منظم آگاہی مہم کی ضرورت ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سائبر خطرات اور آن لائن تحفظ سے متعلق عوام کو آگاہ کرنے کے لیے میڈیا اداروں کو بھی شامل کیا جائے۔














