کمزور انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی پر حکومت کو قومی اسمبلی میں تنقید کا سامنا

جمعہ 15 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قومی اسمبلی کے متعدد ارکان نے گزشتہ روز ایوان سمیت ملک بھر میں سست رفتار انٹرنیٹ کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں پیپر لیس نظام متعارف کرانے کی حالیہ کوششیں کمزور انٹرنیٹ کے باعث متاثر ہو رہی ہیں۔

قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفیٰ شاہ نے ارکان کو یاد دلایا کہ ایوان کے امور کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پارلیمانی کارروائی کو خودکار بنایا جا رہا ہے اور جلد بلوں سمیت دیگر دستاویزات کی کاغذی تقسیم ختم کر دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ تمام ارکان کو پیپر لیس کارروائی اور کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ٹیبلیٹس فراہم کیے گئے ہیں جبکہ کاغذ کے استعمال کو کم سے کم کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔

یہ بھی پڑھیں: انٹرنیٹ ٹریفک کی لوکلائزیشن لازمی، پی ٹی اے کا نیا فریم ورک نافذ

تاہم نعیمہ کشور نے شکایت کی کہ وہ پیپر لیس نظام سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں مگر خراب انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کے باعث گزشتہ ایک گھنٹے سے دستاویزات ڈاؤن لوڈ نہیں کر سکیں۔

انہوں نے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ سے مسئلہ فوری حل کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ ارکان کو سرکاری مواد بروقت دستیاب ہو سکے۔

بعد ازاں ڈپٹی اسپیکر نے متعلقہ حکام کو ایوان میں انٹرنیٹ کے مسئلے کے حل کی ہدایت جاری کی۔

ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ ارکان اسپیکر کی جانب سے اجلاسوں کے دوران ٹیبلیٹس کے استعمال سے متعلق ہدایات پر عمل نہیں کر رہے، جس کی ممکنہ وجہ ڈیجیٹل آلات سے ناواقفیت ہو سکتی ہے۔

بعض ارکان نے قومی اسمبلی میں خصوصی سہولت ڈیسک قائم کرنے کی تجویز بھی دی تاکہ ڈیجیٹل نظام استعمال کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنے والے اراکین کی مدد کی جا سکے۔

پیپلز پارٹی کی رکن شرمیلا فاروقی سمیت دیگر ارکان نے ملک بھر میں انٹرنیٹ کی سست رفتاری پر سوال اٹھاتے ہوئے دریافت کیا کہ آیا حالیہ اسپیکٹرم نیلامی سے صارفین کو بہتر انٹرنیٹ سہولیات میسر آ سکیں گی یا نہیں۔

مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کشیدگی: کن علاقوں کی انٹرنیٹ سروس بھی متاثر ہو سکتی ہے؟

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ اسپیکٹرم نیلامی کے بعد انٹرنیٹ سروسز میں بہتری کی توقع ہے کیونکہ اس اقدام کا مقصد ملک کے ٹیلی کمیونی کیشن انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2022 میں ٹیلی کام آپریٹرز نے لیٹر آف کریڈٹ کھولنا بند کر دیے تھے جس سے آلات کی درآمد اور نیٹ ورک توسیع متاثر ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈالر کی قدر میں استحکام آنے کے بعد ٹیلی کام شعبے اور انفراسٹرکچر کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔

شزا فاطمہ خواجہ نے حالیہ عمل کو دنیا کی سب سے بڑی اسپیکٹرم نیلامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان میں کنیکٹیویٹی اور ڈیجیٹل سروسز بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

ڈیجیٹل ہراسانی اور آن لائن فراڈ پر تشویش

اجلاس کے دوران ارکان اسمبلی نے ڈیجیٹل ہراسانی، آن لائن فراڈ اور ذاتی معلومات کی چوری پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکام باقاعدگی سے شہریوں کو آگاہ کرتے ہیں کہ وہ ون ٹائم پاس ورڈز اور پن کوڈز نامعلوم افراد کے ساتھ شیئر نہ کریں۔

مزید پڑھیں: 5جی اسپیکٹرم کی نیلامی: کیا انٹرنیٹ کے مسائل ختم ہوجائیں گے؟

انہوں نے کہا کہ عوامی آگاہی ڈیجیٹل فراڈ کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور اس حوالے سے کچھ بہتری بھی دیکھنے میں آئی ہے۔

تاہم پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری نے زور دیا کہ آن لائن دھوکہ دہی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر جامع اور منظم آگاہی مہم کی ضرورت ہے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سائبر خطرات اور آن لائن تحفظ سے متعلق عوام کو آگاہ کرنے کے لیے میڈیا اداروں کو بھی شامل کیا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سپریم کورٹ: سزا بڑھانے کی اپیل خارج، 14 سال بعد رہائی پا چکے قیدی کے بارے اہم حکم

’سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ معطل نہیں کیا جا سکتا‘، پاکستان کے مؤقف کو عالمی پذیرائی

افغانستان میں دہشتگردوں کی کھلی پذیرائی پر اقوام متحدہ کی خاموشی پر سوالات

’امریکا ایسا طیارہ نہیں بنا سکتا تھا‘، ٹرمپ کا قطر سے ملنے والے لگژری جیٹ پر حیرت کا اظہار

رسجا کی نئی قیادت بلا مقابلہ منتخب، کھیلوں کی صحافت کے فروغ اور صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے عزم کا اظہار

ویڈیو

صادقین کی 96ویں سالگرہ پر پاکستان پوسٹ کا دنیا کا طویل ترین یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری

پی ٹی آئی کی اندرونی رسہ کشی، خیبرپختونخوا کے عوام پریشان

بھارت نے اگر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی تو پاکستان اپنے قومی مفاد کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

دریاؤں کو بہنے دو

تفرقہ اور نام نہاد پوڈکاسٹرز

عالمی ریکارڈ کا حامل پاکستانی ڈاک ٹکٹ