پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کے روز بھی مندی کا رجحان برقرار رہا، جہاں انڈیکس نے کاروبار کے ابتدائی لمحات میں 800 سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی۔
صبح 10 بجے کے قریب بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 165,641.89 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا جو 856.94 پوائنٹس یعنی 0.51 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
مارکیٹ میں مسلسل فروخت کے دباؤ کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد بدستور کمزور دکھائی دیا۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کا پاکستان کی معاشی کارکردگی اور اصلاحات میں پیشرفت کا اعتراف
مارکیٹ میں نمایاں فروخت آٹو اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں اور پاور جنریشن کے شعبوں میں دیکھی گئی۔
انڈیکس میں بھاری وزن رکھنے والے شیئرز جیسے حبکو، او جی ڈی سی، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، پاکستان اسٹیٹ آئل، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک، نیشنل بینک اور یونائیٹڈ بینک بھی منفی زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔
دوسری جانب ایک اہم پیشرفت میں آئی ایم ایف نے پاکستان پر 11 نئے اسٹرکچرل بینچ مارکس عائد کیے ہیں۔
PSX Opened Negative 👇
☀️ KSE 100 opened negative by -299.77 points this morning. Current index is at 166,199.06 points (9:30 AM) pic.twitter.com/dfilKYmmDG— Investify Pakistan (@investifypk) May 15, 2026
ان میں مالی سال 2027 کے بجٹ کی آئی ایم ایف اسٹاف معاہدے کے مطابق پارلیمانی منظوری اور گیس ٹیرف کی نصف سالہ ایڈجسٹمنٹ کا نوٹیفکیشن شامل ہیں۔
اس کے علاوہ سالانہ بجلی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ، اور نیب کی خودمختاری و شفافیت کو بڑھانے کے لیے اعلیٰ قیادت کے انتخاب کے نظام میں اصلاحات بھی بینچ مارک کا حصہ ہیں۔
مزید پڑھیں: عالمی معیشت میں بہتری: اسٹاک مارکیٹ اور سونے چاندی میں سرمایہ کاری کب کی جائے؟
گزشتہ روز یعنی جمعرات کو بھی اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا سلسلہ جاری رہا تھا، جہاں انڈیکس 952.30 پوائنٹس یعنی 0.57 فیصد کمی کے بعد 166,498.84 پوائنٹس پر بند ہوا۔
مسلسل غیر یقینی صورتحال، بالخصوص امریکا ایران کشیدگی اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

عالمی مارکیٹوں میں بھی دباؤ دیکھا گیا، جہاں ایشیائی حصص میں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ اور شرح سود میں ممکنہ اضافے کی توقعات نے سرمایہ کاروں کی تشویش بڑھا دی۔
جاپان کے نکی انڈیکس میں بھی 1.2 فیصد کمی دیکھی گئی۔
دوسری طرف عالمی سطح پر ٹیکنالوجی حصص میں مثبت رجحان کے باوجود ایشیائی مارکیٹیں اس اثر کو جذب کرنے میں ناکام رہیں، اور مجموعی طور پر سرمایہ کاروں کا رجحان منفی رہا۔














