برطانیہ میں مولانا طاہر اشرفی پر مبینہ حملے اور ہراسگی کے واقعے نے پاکستانی سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں بعض حلقے اسے محض سیاسی احتجاج نہیں بلکہ منظم غنڈہ گردی، دباؤ اور بیرونِ ملک پاکستانی کمیونٹی کو خوفزدہ کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ اس معاملے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے برطانیہ چیپٹر کے بعض افراد کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر #PTIUKScandal، #InvestigateMuazMalik اور #PTIGundagardi جیسے ہیش ٹیگز گردش کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس واقعے میں مبینہ طور پر ملوث افراد کی نشاندہی کے بعد ’معاذ ملکُ کا نام سامنے آیا ہے، جسے بعض سوشل میڈیا صارفین اور سیاسی حلقے پی ٹی آئی یوکے، یوتھ ونگ کا ڈپٹی سیکریٹری یوتھ قرار دے رہے ہیں۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ معاذ ملک اور اظہر مشوانی کے نام مولانا طاہر اشرفی کو ہراساں کرنے، دباؤ ڈالنے اور احتجاج کے ماحول کو کشیدہ بنانے کے تناظر میں سامنے آئے ہیں، جس پر مختلف حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اظہر مشوانی کا ہم خیال گروپ کے ہمراہ برطانیہ میں مولانا طاہر اشرفى اور ان كى فيملى پر حمله
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر بیرونِ ملک سیاسی سرگرمیوں کے نام پر اختلافِ رائے کو ہراسگی، دھونس اور منظم دباؤ میں تبدیل کیا جا رہا ہے تو یہ ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ معاملہ اب صرف ایک مبینہ حملے تک محدود نہیں رہا بلکہ برطانیہ میں ہونے والے احتجاج، سوشل میڈیا مہمات اور سیاسی سرگرمیوں کے پردے میں مالی، اخلاقی اور سماجی استحصال کے الزامات بھی زیرِ بحث آ رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر زیرِ گردش ایک مبینہ آڈیو کے حوالے سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ’معاذ ملک‘ لوگوں سے پیسے لینے، نوکریوں کا جھانسہ دے کر پاکستانیوں سے ہزاروں پاؤنڈ وصول کرنے اور احتجاجی سیاست کو اپنے مبینہ اسائلم کیس کے لیے استعمال کرنے میں ملوث رہا۔ یہ بھی الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ کمزور اور ضرورت مند افراد کو لالچ دے کر مالی نقصان پہنچایا گیا۔

مزید یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ بعض سکھ مالکانِ مکان نے معاذ ملک کے خلاف ہزاروں پاؤنڈ کرائے کی عدم ادائیگی پر قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔
کچھ حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف بھی اختیار کیا جا رہا ہے کہ اگر ایسے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ صرف سیاسی بدعنوانی کا معاملہ نہیں رہے گا بلکہ برطانوی قانون کے تحت سنگین جرائم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
معاملے کا ایک اور حساس پہلو خواتین کے مبینہ استیصال، بلیک میلنگ اور سیاسی سرگرمیوں کے نام پر ان کے استعمال سے متعلق الزامات ہیں۔ سوشل میڈیا پر جاری بحث میں بعض صارفین کا دعویٰ ہے کہ اگر سیاسی پلیٹ فارم کو ذاتی مفادات، مالی فائدے اور کمزور افراد کے استحصال کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے تو یہ جمہوری سیاست نہیں بلکہ ایک منظم مافیا کلچر کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بدنیتی پر مبنی سوشل میڈیا مہم چلانے پر اظہر مشوانی و دیگر کو جے آئی ٹی نے طلب کرلیا
سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس معاملے پر وضاحت دے اور اگر الزامات میں صداقت پائی جاتی ہے تو متعلقہ افراد سے لاتعلقی اختیار کرے۔ مبصرین کے مطابق خاموشی مزید سوالات کو جنم دے سکتی ہے۔
ادھر برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی، صحافتی حلقوں اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس معاملے کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات کی جائیں تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سیاسی اختلاف جمہوری حق ہے، لیکن حملہ، ہراسگی، مالی فراڈ، بلیک میلنگ اور خواتین کے استیصال جیسے الزامات کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔













