بنگلہ دیش میں بھارت کے خلاف لاوا پکنے لگا، اپوزیشن نے ’بارڈر لانگ مارچ تحریک‘ کی دھمکی دیدی

ہفتہ 16 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش کی اپوزیشن جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی کے کنوینیئر ناہید اسلام نے خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان پانی کی تقسیم کے تنازعات اور سرحدی علاقوں میں ہلاکتوں کے واقعات حل نہ ہوئے تو ان کی جماعت بارڈر لانگ مارچ تحریک شروع کر سکتی ہے۔

ڈھاکا میں خطاب کرتے ہوئے ناہید اسلام نے بزرگ بنگالی رہنما مولانا عبد الحمید خان بھاشانی کی تاریخی ’فراکّا لانگ مارچ‘ تحریک کا حوالہ دیا، جو بھارت کی آبی پالیسیوں کے خلاف شروع کی گئی تھی۔

انہوں نے کہاکہ اگر ضرورت پڑی تو ان کی جماعت بھی سرحدی لانگ مارچ کا اعلان کرے گی۔

ناہید اسلام نے بھارت پر الزام عائد کیاکہ اس نے مشترکہ دریاؤں پر ڈیم تعمیر کرکے بنگلہ دیش کو اس کے منصفانہ حصے کے پانی سے محروم رکھا ہے۔

اپوزیشن رہنما نے رواں سال ختم ہونے والے گنگا واٹر شیئرنگ معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے مطالبہ کیاکہ ایک نیا معاہدہ کیا جائے جو بنگلہ دیش کے آبی حقوق کو یقینی بنائے۔

انہوں نے کہا کہ وہ دیکھنا چاہتے ہیں آیا نئی حکومت بنگلہ دیش کے پانی کے حقوق آزادانہ طور پر حاصل کر پاتی ہے یا عوامی لیگ کی طرح جھکاؤ والے معاہدے کرتی ہے۔

ناہید اسلام نے بنگلہ دیش اور بھارت کی سرحد کو دنیا کی خونریز ترین سرحدوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بھارتی سرحدی فورسز کے ہاتھوں برسوں میں ایک ہزار سے زیادہ بنگلہ دیشی شہری مارے جا چکے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ان کی جماعت بنگلہ دیش کی سرحدوں کے تحفظ، قومی خودمختاری کے دفاع اور پانی میں ملک کے جائز حصے کے حصول کو یقینی بنائے گی۔

اپوزیشن رہنما نے حکومت کی خارجہ پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ بنگلہ دیش کو عالمی طاقتوں کا کھیل کا میدان نہیں بننا چاہیے۔

ان کا اشارہ حالیہ عرصے میں امریکا کے ساتھ توانائی اور تجارت کے شعبوں میں ہونے والے معاہدوں کی جانب تھا۔

ناہید اسلام نے عبوری حکومت کی جانب سے کیے گئے اہم بین الاقوامی معاہدوں پر پارلیمنٹ میں بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آیا یہ معاہدے قومی مفادات کا مکمل تحفظ کرتے ہیں یا نہیں۔

انہوں نے حکومت پر سیاسی اصلاحات اور نوجوانوں کو روزگار دینے کے وعدے پورے نہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ انتظامیہ نے عوام کو مایوس کیا ہے۔

دریں اثنا بنگلہ دیش نیشنل لبریشن کونسل کے مرکزی کوآرڈینیٹر فیاض الحکیم نے بھی بھارت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ آبی جارحیت کے ذریعے بنگلہ دیش پر دباؤ ڈالنے اور اسے سزا دینے کی پالیسی پر عمل کر رہا ہے۔

ڈھاکا میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 1975 سے فراکّا بیراج کی وجہ سے بنگلہ دیش کے جنوب مغربی خطے کو شدید ماحولیاتی اور معاشی نقصان پہنچا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp