وزیراعظم پاکستان کے مشیر اختیار ولی نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی شدید دباؤ اور ڈپریشن کا شکار ہیں اور وہ دو مرتبہ اپنا استعفیٰ بھی لکھ چکے ہیں۔ تاہم پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع اور سہیل آفریدی کے قریبی ساتھیوں نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں سیاسی پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔
وزیراعظم کے مشیر اختیار ولی نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں حکومتی معاملات ٹھپ ہو چکے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو نہ صرف عوامی تنقید بلکہ اپنی جماعت کے اندر سے بھی شدید دباؤ کا سامنا ہے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات: سہیل آفریدی کا لاہور دورہ کیوں منسوخ ہوا؟
اختیار ولی کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ان حالات سے ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور دو مرتبہ استعفیٰ لکھنے تک کی نوبت آ چکی ہے۔
انہوں نے کہاکہ صوبے کے عوام بھی موجودہ حکومت کی کارکردگی سے مایوس ہو چکے ہیں اور بہتر یہی ہوگا کہ اسمبلی تحلیل کرکے نئے انتخابات کرائے جائیں تاکہ صوبے کو نئی قیادت مل سکے۔
انہوں نے پی ٹی آئی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہاکہ خیبر پختونخوا میں ترقیاتی کام رکے ہوئے ہیں اور صوبہ عملی طور پر قلم چھوڑ ہڑتال کی کیفیت میں ہے۔
اختیار ولی نے دعویٰ کیا کہ ہزاروں سرکاری اسکولز بنیادی سہولیات سے محروم ہیں جبکہ صوبائی وسائل سیاسی جلسوں، ریلیوں اور سوشل میڈیا مہمات پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔
اختیار ولی نے مزید الزام عائد کیاکہ صوبے میں کرپشن، منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے اور حکومتی توجہ عوامی مسائل کے بجائے سیاسی سرگرمیوں پر مرکوز ہے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے قریبی ساتھی اور سابق مشیر ڈاکٹر شفقت ایاز نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اختیار ولی کے دعوؤں کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیا اور کہاکہ سہیل آفریدی نہ تو استعفیٰ دینے جا رہے ہیں اور نہ ہی انہوں نے استعفے پر غور کیا ہے۔
ڈاکٹر شفقت ایاز کے مطابق اختیار ولی اکثر ٹی وی پروگراموں میں غیر مصدقہ باتیں کرتے ہیں اور اس معاملے میں بھی حقیقت کے برعکس تاثر دیا گیا، وزیراعلیٰ پر یقیناً سیاسی اور انتظامی دباؤ موجود ہے، تاہم اسے ڈپریشن قرار دینا درست نہیں۔
انہوں نے کہاکہ سہیل آفریدی کو اس وقت گورننس، پارٹی معاملات، کارکنوں کی توقعات اور اڈیالہ جیل سے متعلق سیاسی صورتحال سمیت مختلف محاذوں پر دباؤ کا سامنا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر بھی انہیں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
ڈاکٹر شفقت ایاز نے واضح کیاکہ وزیراعلیٰ آخری وقت تک سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے اور استعفیٰ دینے کا کوئی امکان نہیں۔ ان کے بقول سہیل آفریدی مشکل وقت سے ضرور گزر رہے ہیں لیکن وہ ڈپریشن کا شکار نہیں ہیں۔
مزید پڑھیں: شیرافضل مروت کا سہیل آفریدی کے انتخاب کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان
اڈیالہ جیل نہ جانے سے متعلق سوال پر ڈاکٹر شفقت ایاز نے بتایا کہ علیمہ خان نے خود وزیراعلیٰ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اڈیالہ جیل اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر نہ جائیں، جس کے بعد انہوں نے وہاں جانا کم کر دیا۔ تاہم اگر پارٹی قیادت کی جانب سے ہدایت ملی تو وہ دوبارہ وہاں بھی جائیں گے۔












