ایک غیر ملکی جوڑے نے انسانیت کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے ضلع قصور کے ایک غریب خاندان کو نسل در نسل جاری قرضی غلامی سے نجات دلا دی جس پر سوشل میڈیا صارفین اس اقدام کو انسان دوستی اور ہمدردی کی اعلیٰ مثال قرار دے رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق متاثرہ خاندان گزشتہ تقریباً 130 برس سے قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ خاندان کے بزرگ نے کئی دہائیاں قبل ایک بھاری قرض لیا تھا جس کے بعد خاندان کی آنے والی نسلیں بھی قرض کی ادائیگی کے لیے بھٹہ پر بغیر اجرت کام کرنے پر مجبور رہیں۔
View this post on Instagram
ذرائع کے مطابق خاندان کے افراد سخت اور غیر انسانی حالات میں اینٹیں بنانے کا کام کرتے رہے تاہم قرض کی رقم اور سود ختم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھتا رہا۔ حال ہی میں پاکستان آنے والے ایک مغربی جوڑے نے خاندان کی حالت زار دیکھ کر ان کا مکمل قرض ادا کر دیا جس کے بعد خاندان کو غلامانہ مشقت سے آزادی حاصل ہو گئی۔
واقعے کے دوران جذباتی مناظر بھی دیکھنے میں آئے جب خاندان کی ایک خاتون نے خوشی اور تشکر کے جذبات سے مغلوب ہو کر غیر ملکی شخص کو گلے لگا لیا۔
یہ بھی پڑھیں: ’مسلمانوں کو کھانا نہیں دوں گا‘ ہندو رکشا دل سربراہ کی غریب سے پلیٹ چھیننے کی ویڈیو وائرل
سوشل میڈیا پر اس واقعے کو بڑے پیمانے پر سراہا جا رہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ انسانیت مذہب، نسل اور قومیت سے بالاتر ہے۔ کئی افراد نے اس امر پر افسوس کا اظہار بھی کیا کہ مقامی سطح پر کسی صاحبِ حیثیت شخص نے اس خاندان کی مدد نہیں کی۔
ایک صارف کا کہنا تھا کہ انسانیت تمام مذاہب سے بڑی ہے ایک اور سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ مجھے افسوس ہوتا ہے کہ ایک غیر ملکی جوڑا انہیں اس ہولناک قرض سے نجات دلانے آیا۔
یہ بھی پڑھیں: والدین کی ذرا سی لاپروائی، 12 سالہ بچے نے پورا دفتر جلا ڈالا
کئی صارفین نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت افسوسناک ہے کہ پاکستان میں غریبوں کے لیے انصاف نہیں ہے۔
صارفین نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں موجود قرضی غلامی جیسے غیر قانونی اور غیر انسانی نظام کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ کسی خاندان کو نسل در نسل اس ظلم کا سامنا نہ کرنا پڑے۔













