ایک باپ کا بیٹی کے نام خط: پروں کو پرواز ملنے دو !

پیر 18 مئی 2026
author image

سیدہ سفینہ ملک

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

میری پیاری بیٹی! سنو اور خوف زدہ مت ہونا۔ میں جانتا ہوں کہ تم بہت محنت اور مشقت کے بعد اس مقام تک پہنچی ہو۔ ایک لڑکی کے لیے گھر کی چوکھٹ سے باہر قدم نکالنا کتنا کٹھن ہے، میں سمجھ سکتا ہوں۔ جب وہ باہر نکلتی ہے تو ہزاروں نظریں اس کا تعاقب کرتی ہیں، بے شمار ہاتھ اس کا راستہ روکنے کی تاک میں ہوتے ہیں۔ خود کو چھپاتے چھپاتے، ہجوم کے تھپیڑے کھاتے اور معاشرے کے طعنوں کو سہتے ہوئے منزل کی طرف بڑھنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔

اپنی تصویروں تک کو چھپا کر رکھنا کہ کہیں کسی غلط ہاتھ لگ کر خاندان کی رسوائی کا سبب نہ بن جائے، دنیا کی حقیقت جاننے کے لیے فرضی ناموں سے سوشل میڈیا کا سہارا لینا، اور کبھی اچھے کپڑے پہننے پر اس خوف کا دامن گیر ہونا کہ لوگ اسے خود نمائی نہ سمجھ لیں۔

اس ڈر سے خود کو بے رنگ بنا لینا کہ کوئی متوجہ نہ ہو اور خاندان پر حرف نہ آئے۔ پھر معاشرے کے اس معیار پر پورا اترنے کی جنگ، جہاں لڑکی کا کم عمر، خوبصورت اور شوخ و چنچل ہونا ہی اس کی قیمت طے کرتا ہے۔ کم عمری میں بیاہ دی جائے تو ذمہ داریوں کے بوجھ اور لڑائی جھگڑوں کا خوف، اور اگر عمر تھوڑی نکل جائے تو رد کر دیے جانے کا ڈر۔۔۔ میں جانتا ہوں بیٹی، یہ سب آسان نہیں ہے۔

مگر میری بہادر بیٹی! تم بہت مضبوط ہو، اور یہ دنیا صرف بُرے لوگوں کی بستی نہیں ہے۔ یہاں سب ایک جیسے نہیں ہیں۔ اس اندھیرے کے بیچ ایسے باوقار، مخلص اور باشعور لوگ بھی موجود ہیں، جو تمہاری ڈھال بنیں گے، جو تمہاری عزت پر آنچ نہیں آنے دیں گے اور تمہاری خاطر دنیا سے لڑ جائیں گے۔

اگر تم نے منفی چہرے دیکھے ہیں، تو اب تمہیں وہ مثبت ذہن بھی ملیں گے جو تمہیں محض ایک صنف نہیں، بلکہ ایک مکمل انسان تسلیم کریں گے۔ بس تمھیں انسانوں کی پہچان ہونا ضروری ہے۔

اس لیے میری پیاری بیٹی خود کو کبھی بے رنگ مت بنانا، بہترین لباس پہننا اور اپنی شخصیت کو نکھارنا۔ عمر کا بڑھنا کوئی  بُری بات نہیں ہے، وقت کے ساتھ عمر تو سبھی کی بڑھتی ہے۔ لباس کا عمر سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، جو تمہاری شخصیت کو جچے اور نکھارے، وہ ضرور پہن لینا، دنیا کیا سوچتی ہے اس سے کہیں زیادہ اہم یہ ہے کہ تم اپنے بارے میں کیا سوچتی ہو! اس دنیا کو منفی لوگوں کی عینک سے دیکھنے کے بجائے، ان مثبت سوچ رکھنے والے لوگوں کی نظر سے دیکھو۔

جو عورت کو تفریح کا سامان نہیں سمجھتے، بلکہ زندگی کا وجود سمجھتے ہیں۔ وہ ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کے خوابوں کو کچلنے کے بجائے ان کے پروں کو پرواز دیتے ہیں۔ صحافت ہو، ادب ہو، قانون ہو یا زندگی کا کوئی بھی میدان، ایسے بے شمار لوگ خواتین کے حقوق، ان کے تحفظ اور برابری کے لیے عملی طور پر سینہ سپر ہیں۔

اس لیے میری بیٹی! خوف کی زنجیریں توڑ دو۔ معاشرے کے ڈر سے اپنے اندر کے ہنر کو مت دباؤ، بلکہ اپنی بیدار مغزی سے ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنا۔ جو جوہر خدا نے تمہیں بخشا ہے، وہ بے مثال ہے، اسے ضائع مت ہونے دینا۔

یاد رکھنا، ایک محترم اور مضبوط عورت ہی ایک طاقتور معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ یہ دنیا اچھے لوگوں سے خالی نہیں، جہاں تاریکی پھیلانے والے ہیں، وہاں روشنی کا علم اٹھانے والے بھی موجود ہیں،جن کے لیے عورت کا احترام سب سے مقدم ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp