سروس لانگ مارچ ٹائرز لمیٹڈ کے ابتدائی عوامی شیئرز یعنی آئی پی او کی بک بلڈنگ پیر کے روز آغاز کے صرف 5 سیکنڈ کے اندر مکمل طور پر سبسکرائب ہو گئی۔
اسے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی تاریخ کے تیز ترین بک بلڈنگ ٹرانزیکشنز میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
کمپنی کی جانب سے آئی پی او کے لیے فی شیئر قیمت 14 روپے 25 پیسے سے 19 روپے 95 پیسے کے درمیان مقرر کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غیر یقینی عالمی حالات کے باوجود اسٹاک مارکیٹ میں ریکوری، کاروبار کا مثبت زون میں اختتام
دوسری جانب حکام کے مطابق، بک بلڈنگ کا عمل 18 اور 19 مئی 2026 کو جاری رہے گا۔
کمپنی کی مجموعی مالیت اس آئی پی او کے لیے تقریباً 55 کروڑ ڈالر لگائی گئی ہے، انتظامیہ نے آئندہ 2 برسوں میں اسے ایک ارب ڈالر مالیت کی کمپنی بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
یہ آئی پی او ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کی ایکویٹی مارکیٹ میں برآمدات میں اضافے اور مقامی صنعتوں کے فروغ سے وابستہ مینوفیکچرنگ و صنعتی کمپنیوں میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی دوبارہ بڑھ رہی ہے۔
https://Twitter.com/search?q=SLM%20IPO&src=typed_query
اس ٹرانزیکشن کے لیڈ منیجر اور بک رنر عارف حبیب لمیٹڈ نے بک بلڈنگ میں سرمایہ کاروں کی بھرپور شرکت کو سراہا۔
ماہرین کے مطابق سروس لانگ مارچ ٹائرز کے آئی پی او کو ملنے والا مثبت ردعمل پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ کے لیے خوش آئند پیش رفت ہے.
مزید پڑھیں: او جی ڈی سی ایل نے کوہاٹ میں اہم ہائیڈروکاربن ذخائر دریافت کرلیے
خصوصاً ایسے وقت میں جب برآمدات پر مبنی مینوفیکچرنگ کمپنیوں میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
سروس لانگ مارچ ٹائرز نے اپنے قیام کے بعد پاکستان کی آٹو موٹو مینوفیکچرنگ صنعت میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔
کمپنی بنیادی طور پر ٹرک اور بس ریڈیل ٹائرز کی مارکیٹ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جو ملک کے ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس، تجارت اور صنعتی شعبوں کے لیے نہایت اہم تصور کی جاتی ہے۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، انڈیکس میں 3000 پوائنٹس کا اضافہ
اپنی توسیعی حکمت عملی کے تحت کمپنی مسافر گاڑیوں کے ٹائرز کی تیاری کے لیے ایک علیحدہ پیداواری پلانٹ قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس کی تجارتی پیداوار جنوری 2028 میں شروع ہونے کی توقع ہے۔
مجوزہ پلانٹ کی ابتدائی سالانہ پیداواری صلاحیت تقریباً 20 لاکھ ٹائرز ہوگی، جسے مالی سال 2029 تک بڑھا کر 25 لاکھ اور مالی سال 2030 تک 30 لاکھ ٹائرز تک لے جانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔













