مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث پیر کو اسٹاک ایکسچینج میں شدید فروخت کا رجحان دیکھنے میں آیا، جہاں 100 انڈیکس کاروباری سیشن کے دوران 2200 سے زائد پوائنٹس کی کمی کا شکار ہو گیا۔
دوپہر 12 بج کر 48 منٹ پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 163,354.86 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو 2,241.21 پوائنٹس یعنی 1.35 فیصد کم تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟
مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، فرٹیلائزر، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، پاور جنریشن اور ریفائنری سمیت اہم شعبوں میں دیکھا گیا۔
اٹک ریفائنریز لمیٹڈ، حبکو، ماری انرجیز، او جی ڈی سی، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، پاکستان آئل فیلڈز، حبیب بینک، میزان بینک اور یونائیٹڈ بینک سمیت انڈیکس پر اثرانداز ہونے والے بڑے شیئرز منفی زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔
Market is down at midday 👇
⏳ KSE 100 is negative by -1840.48 points (-1.11%) at midday trading. Index is at 163,755.59 and volume so far is 64.87 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/AHjaqyhaD8— Investify Pakistan (@investifypk) May 18, 2026
متحدہ عرب امارات کے براکہ جوہری تنصیب پر ڈرون حملے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں۔
ماہرین کے مطابق متحدہ عرب امارات نے اس حملے کو خطرناک کشیدگی قرار دیا ہے جبکہ جنگی خدشات کے دوبارہ بڑھنے سے پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کی معیشتوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
مزید پڑھیں: ابتدائی خریداری کا رجحان برقرار نہ رہ سکا، اسٹاک مارکیٹ مندی سے دوچار
گزشتہ ہفتے بھی پاکستان اسٹاک مارکیٹ دباؤ کا شکار رہی تھی، جب کے ایس ای 100 انڈیکس میں 3.2 فیصد یعنی 5,519.75 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی اور انڈیکس 165,596.06 پوائنٹس پر بند ہوا۔
ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی کشیدگی سے متعلق مسلسل غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا، حالانکہ ملکی معاشی اشاریوں میں بہتری دیکھی جا رہی تھی۔

عالمی سطح پر بھی ایشیائی اسٹاک مارکیٹس پیر کو مندی کا شکار رہیں۔ خلیجی خطے میں تازہ ڈرون حملوں کے باعث تیل کی قیمتوں اور بانڈ ییلڈز میں اضافہ ہوا، جبکہ اس ہفتے این ویڈیا کے مالی نتائج کے باعث مصنوعی ذہانت کے شعبے پر سرمایہ کاروں کی نظریں مرکوز ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے ایک جوہری پاور پلانٹ پر ڈرون حملے سے آگ بھڑک اٹھی، جبکہ سعودی عرب نے 3 ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ وہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے جلد اقدامات کرے۔













