صبح 9 بج کر 50 منٹ تک کے ایس ای 100 انڈیکس 909.04 پوائنٹس یعنی 0.53 فیصد اضافے کے ساتھ 171,415.35 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
Market is down at midday 👇
⏳ KSE 100 is negative by -484.59 points (-0.28%) at midday trading. Index is at 170,021.73 and volume so far is 201.22 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/Pc0Hx3lDXQ— Investify Pakistan (@investifypk) May 12, 2026
مارکیٹ میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، پاور جنریشن اور ریفائنری شعبوں میں نمایاں خریداری دیکھی گئی۔
اٹک ریفائنری لمیٹڈ، حبکو، ماری، او جی ڈی سی، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، پاکستان آئل فیلڈز لمیٹڈ، ایم سی بی، میزان بینک، نیشنل بینک اور یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ سمیت انڈیکس میں زیادہ وزن رکھنے والے شیئرز سبز زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔
گزشتہ روز یعنی پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں محدود اور محتاط کاروباری سرگرمیاں دیکھی گئی تھیں، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان جاری جغرافیائی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، انڈیکس 2,800 سے زائد پوائنٹس گر گیا
اس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس 609.51 پوائنٹس یعنی 0.36 فیصد کمی کے ساتھ 170,506.31 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
عالمی سطح پر بھی مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی برقرار رہی، تیل کی قیمتوں اور امریکی ڈالر میں اضافہ دیکھا گیا، کیونکہ آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت بحال ہونے سے متعلق معاہدے کی امیدیں کمزور پڑ گئیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی انتہائی نازک صورتحال میں ہے، کیونکہ تہران کی جانب سے امریکی تجویز پر دیا گیا ردعمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں ممالک اب بھی کسی سمجھوتے سے کافی دور ہیں۔

برینٹ خام تیل کی قیمت 0.7 فیصد اضافے کے ساتھ 105 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس تقریباً 3 فیصد گر گیا، جس کے اثرات دیگر علاقائی مارکیٹوں پر بھی دیکھے گئے۔
ایم ایس سی آئی ایشیا پیسیفک انڈیکس میں ایک فیصد کمی ہوئی، جبکہ جاپان کا نکی انڈیکس تقریباً مستحکم رہا، یورپی فیوچرز میں بھی ایک فیصد کمی دیکھی گئی۔
مزید پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ کریش: جنگ کے خدشات یا تیل کی قیمتوں کا دباؤ؟
سرمایہ کاروں کی نظریں بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ چین پر مرکوز ہیں، تاہم تجزیہ کار ایران تنازع یا تجارتی معاملات میں کسی بڑی پیشرفت کے امکانات کم قرار دے رہے ہیں۔
ادھر امریکی افراطِ زر کے تازہ اعداد و شمار بھی آج متوقع ہیں، جہاں کنزیومر پرائس انڈیکس کے سالانہ بنیاد پر 3.7 فیصد تک بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کمی کے بجائے اضافے کے اشارے ملے تو عالمی مالیاتی منڈیوں میں مزید بے چینی پیدا ہو سکتی ہے۔














