بجلی کے بھاری بلوں سے تنگ عوام کے لیے حوصلہ افزا خبر سامنے آئی ہے۔ ملک بھر کے کروڑوں صارفین کے لیے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں کمی کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی جانب سے دائر کردہ ریلیف درخواست پر کل نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں حتمی سماعت ہوگی، جس کے بعد صارفین کو بجلی کے شعبے میں نمایاں ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
مزید پڑھیں: آئی پی پیز آئندہ کے لیے دفن، بجلی سستی کرنے جا رہے ہیں، وزیر توانائی اویس لغاری نے خوشخبری سنا دی
دستاویزات کے مطابق ڈسکوز نے جنوری تا مارچ 2026 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے لیے نیپرا سے رجوع کرتے ہوئے مجموعی طور پر 63 ارب 94 کروڑ روپے کا ریلیف صارفین تک منتقل کرنے کی درخواست کی ہے۔
درخواست میں مختلف مدات کے تحت کمی کی استدعا کی گئی ہے، جن میں سب سے بڑی کمی کیپسٹی چارجز کی مد میں 36 ارب 84 کروڑ روپے کی ہے۔
اسی طرح سسٹم استعمال چارجز اور مارکیٹ آپریشن فیس میں 11 ارب 24 کروڑ روپے جبکہ انکریمنٹل یونٹس کی مد میں 23 ارب 51 کروڑ روپے کے ریلیف کی درخواست شامل ہے۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق یہ ممکنہ ریلیف بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے مطابق ہے، جس کے تحت پاکستان کے انرجی سیکٹر میں بجلی کے نرخ کو لاگت کی وصولی کی سطح پر برقرار رکھنے پر زور دیا جاتا ہے، یعنی بجلی کی قیمت پیداوار کی اصل لاگت کے مطابق ہی مقرر کی جائے۔
رپورٹ کے مطابق جنوری تا مارچ 2026 کے دوران کوئلے، گیس اور ہائیڈل ذرائع سے بجلی کی پیداوار بہتر رہنے اور عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث بجلی کی مجموعی پیداواری لاگت میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں ٹیرف میں کمی ناگزیر قرار دی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر 63 ارب 94 کروڑ روپے کا یہ ریلیف صارفین تک منتقل ہوتا ہے تو یہ نہ صرف گھریلو بلوں میں کمی کا باعث بنے گا بلکہ صنعتی اور تجارتی شعبے کو بھی سستی بجلی فراہم ہوگی، جس سے پیداواری لاگت میں کمی اور مہنگائی پر دباؤ کم ہونے کی توقع ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی آئی ایم ایف کو یقین دہانی: 200 یونٹ بجلی سبسڈی ختم، نیا نظام 2027 سے نافذ
تاہم بجلی کی فی یونٹ قیمت میں حتمی کمی کا فیصلہ نیپرا کل ہونے والی سماعت میں تمام تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد کرے گا۔














