پاکستان کا مسئلہ فلسطین پر اصولی مؤقف برقرار، امریکا ایران جنگ کے دوران ذمہ دار علاقائی ریاست کے طور پر خود کو منوا لیا

پیر 18 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کا فلسطین کے مسئلے پر مؤقف ہمیشہ بین الاقوامی قانون، انصاف اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی بنیاد پر اصولی طور پر دوٹوک رہا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی مسلسل حمایت کرتا آیا ہے اور ایک آزاد، خودمختار اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے پُرعزم ہے جو 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

مزید پڑھیں: ’پاکستان فلسطین کی حمایت جاری رکھےگا‘، وفاقی وزیر سردار یوسف کی فلسطینی وفد سے گفتگو

یہ مؤقف پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اس مستقل اصول کی عکاسی کرتا ہے جس میں وقتی جغرافیائی سیاسی دباؤ کے بجائے قانون، اخلاقیات اور عالمی ضمیر کو ترجیح دی جاتی ہے۔

پاکستان بار ہا اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن فلسطین کے مسئلے کے منصفانہ حل کے بغیر ممکن نہیں۔ مختلف حکومتوں نے سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت اور غیر قانونی قبضے، آبادکاریوں کی توسیع اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزیوں کی مخالفت میں تسلسل برقرار رکھا ہے۔

پاکستان کی سفارتی آواز اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) سمیت عالمی فورمز پر مسلسل سنائی دیتی رہی ہے جہاں اس نے احتساب، پرامن حل اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ حقوق کے احترام کی وکالت کی ہے۔

امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور تنازع نے مزید واضح کیا ہے کہ ریاستوں کو متوازن اور اصولی سفارتی مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔

موجودہ بحران کے دوران پاکستان کے طرزِ عمل نے اسے ایک ذمہ دار علاقائی ریاست کے طور پر اجاگر کیا ہے جو تحمل، مکالمے اور تنازعات کے پرامن حل کو فروغ دیتی ہے۔

پاکستان نے بلاک سیاست یا مہم جوئی کے بجائے کشیدگی میں کمی، علاقائی استحکام اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر زور دیا ہے، جس سے اس کے سفارتی مؤقف کی ساکھ مزید مضبوط ہوئی ہے۔

موجودہ علاقائی صورتحال میں پاکستان کی تعمیری سفارت کاری نے مسلم امہ میں اس کے مقام کو بھی بہتر کیا ہے۔

بہت سے مسلم ممالک متوازن قیادت کے متلاشی ہیں جو امن کے فروغ کے ساتھ جائز حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنائے، اس تناظر میں پاکستان ایک اہم اور معتبر آواز کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ثالثی، سفارتی روابط اور کشیدگی میں کمی کی کوششوں کو ایک ذمہ دار ریاست کے کردار کے طور پر سراہا گیا ہے۔

پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت اسے فلسطین کے مسئلے کے منصفانہ حل کے لیے عالمی رائے عامہ کو متحرک کرنے میں مزید مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

اس کی ساکھ مسلسل پرامن ذرائع، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون پر انحصار سے جڑی ہے۔ پاکستان اپنے بہتر ہوتے ہوئے سفارتی مقام کو فلسطینی عوام کے حقوق، وقار اور سلامتی کے تحفظ کے لیے مؤثر طور پر استعمال کرنے کی پوزیشن میں ہے۔

مزید پڑھیں: مسجد اقصیٰ میں قابض طاقت کا پرچم لہرانا قابل مذمت، پاکستان کا آزاد فلسطینی ریاست کے لیے اپنے عزم کا اعادہ

پاکستان آئندہ بھی فلسطین کی حمایت میں تمام سفارتی اور پرامن راستے اختیار کرتا رہے گا اور علاقائی و عالمی امن کے فروغ میں اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔

انصاف، بین الاقوامی قانون اور اجتماعی سلامتی اس کی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصول ہیں، اور موجودہ عالمی تقسیم اور کشیدگی کے دور میں پاکستان کا متوازن اور اصولی مؤقف اسے ایک ذمہ دار عالمی رکن اور مسلم دنیا کی ایک نمایاں آواز کے طور پر مزید مضبوط کرتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سینیئر صحافیوں کا ’وی نیوز‘ اسلام آباد دفتر کا دورہ، استقبال اور تحائف پیش

  اسلام آباد میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کی تقریبات کا آغاز، سیالکوٹ کی فٹبال نے میلہ لوٹ لیا

عمران خان کی حکومت کے خاتمے میں بیرونی سازش ثابت نہیں، سائفر پر بحث پرانا سیاسی بیانیہ

ایران پر حملے کا فیصلہ ایک گھنٹے میں کرنے والا تھا لیکن پھر معاملہ مؤخر کردیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

پاکستان اور ایشیائی بینک کے درمیان بڑا معاہدہ، این-5 کی تعمیرِ نو کے لیے 32 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری

ویڈیو

سینیئر صحافیوں کا ’وی نیوز‘ اسلام آباد دفتر کا دورہ، استقبال اور تحائف پیش

بلوچستان کے نوجوانوں کی سماجی و اقتصادی ترقی کے پروگرام میں بھرپور شرکت

سعد رفیق کیخلاف سوشل میڈیا مہم، شیخ سائرہ کی روتے ہوئے لیگی رہنما سے اپیل، ایران پر حملے کی تیاری، امریکا کا پیغام

کالم / تجزیہ

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟

وزیر آغا‘ ایک عہد جو مکالمہ بن گیا

قدم قدم سوئے حرم