بھارت میں ایک طرف پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں تو دوسری طرف بھارتی فوجی قیادت کی جانب سے دھمکی آمیز بیانات آ رہے ہیں۔ ایک طرف پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی بات کی جاتی ہے تو دوسری طرف سندھ طاس معاہدے پر بین الاقوامی ثالثی عدالت کے فیصلے کو مسترد کر دیا جاتا ہے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا بھارتی قیادت بحیثیتِ مجموعی تضاد بیانی کا شکار کیوں ہے؟
بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں حالیہ پیشرفت نے ایک بار پھر یہ سوال نمایاں کردیا ہے کہ کیا بھارت کی خارجہ پالیسی ایک واضح اور مربوط حکمتِ عملی کے تحت چل رہی ہے یا یہ اندرونی تضادات اور متوازی بیانیوں کا مجموعہ بن چکی ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت پاکستان کیخلاف پھر فالس فلیگ آپریشن کرسکتا ہے، اس بار گھر میں گھس کر ماریں گے، وزیر دفاع خواجہ آصف
ایک طرف بھارت کے اندر بعض سیاسی، نظریاتی اور تزویراتی حلقے پاکستان کے ساتھ مذاکرات اور رابطے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں، جبکہ دوسری طرف بھارتی عسکری قیادت کی جانب سے سخت اور بعض اوقات انتہائی جارحانہ نوعیت کے بیانات سامنے آتے ہیں۔
بھارتی آرمی چیف کے اس بیان نے، جس میں انہوں نے پاکستان کے حوالے سے جغرافیہ یا تاریخ کا حصہ بننے جیسے الفاظ استعمال کیے، پورے خطے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
آئی ایس پی آر نے بھارت کے اس بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے اشتعال انگیز قرار دیا اور خبردار کیاکہ ایسے بیانات جنوبی ایشیا کو ایک اور بڑے تصادم کی طرف دھکیل سکتے ہیں جس کے نتائج انتہائی تباہ کن ہو سکتے ہیں۔
یہی وہ پس منظر ہے جس میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا بھارت کی پالیسی واقعی تضادات کا شکار ہے یا یہ ایک سوچا سمجھا دہرا اسٹریٹجک پیغام ہے جس میں ایک طرف سفارتی دروازے کھلے رکھنے کا تاثر دیا جاتا ہے اور دوسری طرف عسکری دباؤ برقرار رکھا جاتا ہے۔
’بھارت کے اندر متوازی بیانیے‘
بھارت میں معتدل قوتیں پاکستان کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی باتیں کرتی چلی آئی ہیں، اور بھارتی آپریشن سندور اور پاکستانی معرکہ حق کے بعد کئی حقیقت پسند بھارتی تجزیہ نگار یہ کہتے نظر آئے کہ بھارت فوجی لڑائی میں پاکستان سے نہیں جیت سکتا اور پاکستان کے ساتھ مسائل کا حل سفارتکاری اور بات چیت ہے، لیکن دوسری طرف بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت اور اس کے زیر اثر میڈیا پاکستان کے خلاف بے انتہا زہر اگلتا رہا۔
پھر اچانک 13 مئی کو بی جے پی کے جنرل سیکریٹری کا بیان آتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے جائیں جس کو ایک سابق بھارتی چیف کی تائید حاصل ہوتی ہے۔
بھارتی خارجہ پالیسی کو اگر قریب سے دیکھا جائے تو اس میں دو واضح اور متوازی رجحانات نمایاں ہیں۔ ایک رجحان وہ ہے جو خطے میں استحکام، معاشی انضمام اور محدود سفارتی روابط کی حمایت کرتا ہے۔
اس سوچ کے حامل حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ جنوبی ایشیا کی معاشی ترقی پاکستان اور بھارت کے درمیان مسلسل منقطع تعلقات کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
دوسرا رجحان سخت گیر ہے جو خطے میں طاقت کے توازن کو عسکری برتری کے زاویے سے دیکھتا ہے۔ اس بیانیے میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کو اکثر سیکیورٹی خدشات اور تزویراتی دشمنی کے فریم میں رکھا جاتا ہے۔
یہی دہرا پن مجموعی بھارتی خارجہ پالیسی کے بارے میں ایک غیر واضح اور کبھی کبھار متضاد تصویر پیش کرتا ہے۔
عسکری بیانیہ اور اس کے اثرات
بھارتی عسکری قیادت کے حالیہ بیانات، جنہیں پاکستان نے شدید ردعمل کے ساتھ مسترد کیا، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں تزویراتی اعتماد کی کمی مزید گہری ہو رہی ہے۔
پاکستان کے مطابق ایسے بیانات نہ صرف سفارتی ماحول کو خراب کرتے ہیں بلکہ غلط اندازوں اور ممکنہ بحرانوں کے خطرات میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔
اس تناظر میں یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ جنوبی ایشیا ایک جوہری صلاحیت رکھنے والا خطہ ہے، جہاں کسی بھی غلط فہمی یا غلط اندازے کے نتائج صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خطے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سخت بیانیہ ہمیشہ سفارتی دباؤ اور غیر یقینی کو بڑھا دیتا ہے۔
پاکستانی سفارتی مؤقف جامع مذاکرات
پاکستانی سفارت کاری میں ایک بنیادی نکتہ ہمیشہ نمایاں رہا ہے کہ بھارت کے ساتھ تعلقات کی بہتری کا واحد پائیدار راستہ مذاکرات ہیں، مگر یہ مذاکرات برابری، احترام اور جامع مکالمے پر مبنی ہونے چاہییں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ پاکستان ہمیشہ سے یہ کہتا چلا آیا ہے کہ بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت تمام معاملات پر جامع مذاکرات ہونے چاہییں جن کو بھارت مسترد کرتا چلا آیا ہے۔
اس تناظر میں پاکستانی خارجہ پالیسی کے چند اہم نام اس مؤقف کی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔
مشاہد حسین سید کا جنوبی ایشیا میں امن کے لیے بات چیت پر زور
سابق سینیٹر اور سینیئر تجزیہ کار مشاہد حسین سید مختلف علاقائی اور بین الاقوامی فورمز پر اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں امن کا انحصار آئیسولیشن نہیں بلکہ رابطے اور سفارتی انگیجمنٹ پر منحصر ہے۔
ان کے مطابق مسلسل کشیدگی نہ صرف سیکیورٹی خطرات بڑھاتی ہے بلکہ معاشی ترقی کے امکانات بھی محدود کرتی ہے۔
سخت ترین حالات میں بھی پاک بھارت بات چیت کے چینل کھلے رہتے ہیں، مائیکل کوگلمین
امریکا میں موجود جنوبی ایشیائی امور کے ماہر مائیکل کوگلمین نے ایک انٹرویو میں کہاکہ آر ایس ایس کی جانب سے مذاکرات کا بیان آنا اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے سوفٹ امیج کو پروموٹ کرنا چاہتی ہے اور اس بیان کی متوقع آڈئینس امریکی ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ آر ایس ایس یہ بتانا چاہتی ہے کہ وہ مذاکرات کی حامی ہے، لیکن اہم بات یہ ہے کہ آر ایس ایس کی آڈئینس بھارتی ہے نہ کہ امریکی۔
انہوں نے کہاکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان سخت ترین حالات کے باوجود بھی بات چیت کے چینلز کھلے رہتے ہیں۔
پاکستان کی پالیسی ہمیشہ جامع مذاکرات کی رہی ہے، اعزاز احمد چوہدری
سابق سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری مختلف انٹرویوز اور پالیسی مباحث میں یہ مؤقف دہراتے رہے ہیں کہ پاکستان کی پالیسی ہمیشہ جامع مذاکرات کی رہی ہے۔ ان کے مطابق بنیادی تنازعات کو نظرانداز کر کے تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش دیرپا حل فراہم نہیں کرتی۔
پاکستان اور بھارت تعلقات کی بہتری کا واحد راستہ مذاکرات ہیں، عبدالباسط
سابق ہائی کمشنر عبدالباسط نے متعدد میڈیا انٹرویوز میں بارہا یہ بات دہرائی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی بہتری کا واحد راستہ مذاکرات ہیں کیونکہ دونوں ممالک کے معاشی، انسانی اور علاقائی مفادات مسلسل کشیدگی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہاکہ پاکستان کو اس بار دھوکے میں نہیں آنا چاہیے، مذاکرات صرف جموں و کشمیر اور دہشتگردی سے متعلق امور تک محدود ہونے چاہییں۔
کیا بھارت کی پالیسی تضاد کا شکار ہے؟
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ یہ واقعی ایک پالیسی تضاد ہے، جہاں سیاسی قیادت مذاکرات کی بات کرتی ہے مگر عسکری اور بعض اوقات اسٹریٹجک حلقے سخت اور جارحانہ مؤقف اپناتے ہیں۔ اس عدم ہم آہنگی کے نتیجے میں خطے میں غیر یقینی صورتحال بڑھتی ہے اور سفارتی اعتماد کمزور ہوتا ہے۔
دوسرا زاویہ یہ ہے کہ بھارت ایک سوچا سمجھا دوہرا اسٹریٹجک ماڈل استعمال کر رہا ہے، جس میں ایک طرف مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا جاتا ہے تاکہ عالمی دباؤ اور سفارتی تنہائی سے بچا جا سکے، جبکہ دوسری طرف سخت بیانات کے ذریعے دباؤ برقرار رکھا جاتا ہے۔ یہ حکمت عملی بڑی طاقتوں میں عام ہے، لیکن جنوبی ایشیا میں اس کے خطرات نسبتاً زیادہ ہیں۔
پالیسی تضاد کی وجہ سے اعتماد کا فقدان
اس متوازی بیانیے کا سب سے بڑا نتیجہ اعتماد کے بحران کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ جب ایک طرف مذاکرات کی بات ہو اور دوسری طرف سخت بیانات جاری رہیں تو سفارتی عمل غیر یقینی کا شکار ہو جاتا ہے۔
اس کے نتیجے میں بحران کے وقت غلط اندازوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، سفارتی چینلز کمزور پڑتے ہیں اور بیک چینل روابط بھی دباؤ میں آ جاتے ہیں۔ یہ صورتحال جنوبی ایشیا کو ایک ایسے غیر مستحکم توازن میں رکھتی ہے جہاں نہ مکمل امن ہوتا ہے اور نہ کھلی جنگ، بلکہ ایک مستقل تناؤ کی کیفیت برقرار رہتی ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت پاکستان سے ہونے والی شرمناک شکست کو آج تک ہضم نہیں کر پایا، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ
اصل سوال یہی ہے کہ کیا جنوبی ایشیا ایک ایسے دور میں داخل ہوگا جہاں مذاکرات بنیادی فریم ہوں گے، یا یہ خطہ مسلسل متوازی بیانیوں اور کشیدگی کے اسی دائرے میں گھومتا رہے گا؟













