پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے خبردار کیا ہے کہ غیر فعال یا غیر رجسٹرڈ سمز سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹس تک رسائی متاثر ہو سکتی ہے، اگر صارفین نے بروقت اپنی تفصیلات اپ ڈیٹ نہ کیں۔
یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ ہیکنگ اور سائبر فراڈ سے بچاؤ، پی ٹی اے کی صارفین کو ہشیار رہنے کی ہدایت
ایکس پر جاری کیے گئے ایک اعلامیے میں پی ٹی اے نے کہا کہ صارفین اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے واٹس ایپ اکاؤنٹس ایک فعال اور درست طور پر رجسٹرڈ سم کے ساتھ منسلک ہوں۔
ادارے نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی ڈیجیٹل شناخت آپ کی ذمہ داری ہے۔
آپ کی ڈیجیٹل شناخت آپ کی ذمہ داری ہے۔
اپنے واٹس ایپ سے منسلک غیر فعال یا غیر رجسٹرڈ سمز کی بروقت تصدیق یقینی بنائیں۔#PTA #DigitalSafety #CyberSecurity #WhatsApp #SIMVerification #OnlineSafety #SecurePakistan #PTAOfficial #StaySafe #MobileSecurity #DigitalAwareness #Trending… pic.twitter.com/X2BBQHgG46— PTA (@PTAofficialpk) May 18, 2026
پی ٹی اے نے خبردار کیا کہ بلاک، منسوخ، غیر فعال یا غیر رجسٹرڈ سمز سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹس کو جلد رسائی کے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔
صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی سم کی رجسٹریشن حیثیت کی تصدیق کریں اور جہاں ضرورت ہو بروقت بائیومیٹرک ویری فکیشن مکمل کروائیں۔
ادارے نے مزید کہا کہ اگر ضرورت ہو تو صارفین قریبی فرنچائز یا کسٹمر سروس سینٹر جا کر اپنی سم کی تصدیق کروائیں۔
مزید پڑھیں: محبت کی آڑ میں آن لائن فراڈ: نوسربازوں سے کیسے بچا جائے؟
پی ٹی اے نے یہ بھی ہدایت کی کہ اگر موجودہ نمبر فعال نہیں رہا تو فوری طور پر واٹس ایپ اکاؤنٹ کو کسی فعال اور تصدیق شدہ سم پر منتقل کیا جائے۔
پی ٹی اے نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صارفین غیر متوقع لاگ آؤٹ ہونے کا انتظار نہ کریں، کیونکہ موبائل نمبر کسی فرد کی ڈیجیٹل شناخت کی نمائندگی کرتا ہے۔
گزشتہ برس بھی پاکستان کے ٹیلی کام ریگولیٹر نے واضح کیا تھا کہ تمام موبائل سم کارڈز اسی شخص کے نام پر رجسٹرڈ ہونے چاہییں جو انہیں استعمال کر رہا ہو۔
مزید پڑھیں: یورپی ممالک میں سرکاری سطح پر واٹس ایپ کے استعمال پر پابندی کی تیاری، وجہ کیا ہے؟
ادارے نے خبردار کیا تھا کہ کسی دوسرے شخص کے نام پر رجسٹرڈ سم استعمال کرنا قواعد کی خلاف ورزی ہے اور اس پر کارروائی ہو سکتی ہے۔
پی ٹی اے نے صارفین کو اپنی سمز کے ذمہ دارانہ استعمال کی ہدایت دیتے ہوئے کہا تھا کہ کسی بھی غلط استعمال کی صورت میں رجسٹرڈ صارف کو مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔
اعلامیے میں شہریوں کو ترغیب دی گئی کہ وہ صرف مستند اور سرکاری ذرائع پر مبنی معلومات ہی شیئر کریں اور افواہوں اور جعلی خبروں کے پھیلاؤ سے گریز کریں۔













