قومی اسمبلی میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت کرتے ہوئے پہلے اے آئی فعال پارلیمانی نظام کا اجرا کر دیا گیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل نظام کا استعمال ادارہ جاتی کارکردگی، شفافیت اور قانون سازی کے عمل کو مزید مؤثر بنائے گا۔
سردار ایاز صادق نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی وقت کی اہم ضرورت ہے اور دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے مصنوعی ذہانت سے استفادہ ناگزیر ہو چکا ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ادارہ جاتی کارکردگی میں نمایاں بہتری آ رہی ہے۔ ماضی میں فائلوں کے باعث کام میں تاخیر ہوتی تھی، تاہم ڈیجیٹل نظام متعارف ہونے سے شفافیت اور تیزی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اراکینِ قومی اسمبلی ایوان کی کارروائی میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، اسی لیے قومی اسمبلی کو مرحلہ وار پیپر لیس بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق بجٹ دستاویزات کو بھی ڈیجیٹل اور پیپر لیس نظام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے پارلیمانی امور کی ڈیجیٹلائزیشن وقت کی اہم ضرورت ہے، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق
سردار ایاز صادق نے کہا کہ پارلیمانی امور میں ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے کارکردگی مزید بہتر ہوگی اور اے آئی ٹیکنالوجی کے نفاذ سے اراکینِ پارلیمنٹ کو قانون سازی اور دیگر پارلیمانی معاملات میں بھرپور سہولت میسر آئے گی۔
انہوں نے وزارتِ آئی ٹی اور نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی) کی معاونت کو سراہتے ہوئے کہا کہ قومی اداروں کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے مؤثر اور قابلِ تحسین اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے بتایا کہ گزشتہ روز پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کی کارروائی مکمل طور پر پیپر لیس ماحول میں منعقد کی گئی، جسے انہوں نے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیے کمزور انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی پر حکومت کو قومی اسمبلی میں تنقید کا سامنا
انہوں نے مزید کہا کہ قومی اسمبلی میں جدید ڈیٹا سینٹر کے قیام کے لیے بجٹ مختص کیا جا رہا ہے، جبکہ قومی اسمبلی کے آئی ٹی ڈائریکٹوریٹ کے عملے کی استعدادِ کار بڑھانے کے لیے وزارتِ آئی ٹی اور این آئی ٹی بی کے ذریعے خصوصی تربیت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔
سردار ایاز صادق نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا تاکہ ترقی یافتہ اقوام کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔













