سینیئر سول جج کراچی عربی کی عدالت نے بارشوں کے دوران اورنگی نالے میں گر کر شہری عارف قریشی کی ہلاکت کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ٹاؤن میونسپل کارپوریشن اورنگی ٹاؤن کو حادثے کا ذمہ دار قرار دے دیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں ٹی ایم سی اورنگی ٹاؤن کو حکم دیا کہ وہ متوفی کے اہلخانہ کو بطور ہرجانہ ڈیڑھ کروڑ روپے ادا کرے، جبکہ کراچی میونسپل کارپوریشن کو واقعے سے بری الذمہ قرار دیدیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں کھلے نالے میں گر کر نوجوان جاں بحق، شادی میں ہوائی فائرنگ کے دوران شہری کی ہلاکت
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ متوفی عارف قریشی حادثے کے وقت جوان اور غیر شادی شدہ تھا، اس کے پاس زندگی کا ایک بڑا حصہ باقی تھا اور وہ کسی بیماری میں بھی مبتلا نہیں تھا۔
عدالت کے مطابق ٹی ایم سی کی غفلت اور لاپرواہی کے باعث ایک قیمتی انسانی جان ضائع ہوئی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جدید ٹیکنالوجی اور موسمیاتی مشاہداتی نظام بارشوں کی شدت اور مقدار کی پیشگی درست معلومات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں: بارش نے کراچی کو مفلوج کردیا، ہلاکتیں 11 تک پہنچ گئیں، آج عام تعطیل
تاہم متعلقہ حکام نے خطرناک صورتحال سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات نہیں کیے اور نہ ہی خطرناک مین ہولز اور نالوں کو محفوظ بنایا گیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ ٹاؤن میونسپل کارپوریشن کا غفلت اور لاپرواہی پر مبنی رویہ اس ناگہانی موت کی بنیادی وجہ بنا۔
درخواست گزار کے وکیل کے مطابق عارف قریشی 2020 کی شدید بارشوں کے دوران گھر واپس آرہا تھا کہ نامناسب دیکھ بھال اور بغیر ڈھکے نالے میں گر گیا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوکر جان کی بازی ہار گیا۔
مزید پڑھیں: کراچی میں ٹریفک حادثات، جماعت اسلامی کا شہر بھر میں احتجاجی دھرنوں کا اعلان
دوسری جانب ٹی ایم سی اورنگی ٹاؤن نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ درخواست گزار کے الزامات غلط ہیں اور یہ کیس قابل سماعت نہیں، جبکہ بارشوں کے دوران تمام حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے۔
عدالت نے ٹی ایم سی کا مؤقف مسترد کرتے ہوئے اسے ذمہ دار قرار دے دیا۔














