اسلام آباد ہائیکورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت کے دوران عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکالت نامے پر دستخط مکمل کرانے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو حکم دیا کہ وہ وکالت نامے پر دستخط کرا کے عدالت میں جمع کرائے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد ہائیکورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت، قید تنہائی، صحت کے مسائل اور اپیلوں پر تفصیلی دلائل، فیصلہ محفوظ
اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکیل آئندہ سماعت پر لازماً دلائل کا آغاز کریں، بصورت دیگر قانون اپنا راستہ خود اختیار کرے گا۔
عدالت نے مزید کہا کہ اگر سلمان صفدر دستیاب نہیں ہیں تو فریقین نیا وکیل مقرر کریں تاکہ اپیلوں پر کارروائی آگے بڑھ سکے۔
سماعت کے دوران سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی عدالت کی کسٹڈی میں ہیں اور وکالت نامے دستخط کرانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ان کے مطابق یہ بنیادی حقوق کا معاملہ بھی ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے سامنے اس وقت صرف اپیلیں زیر سماعت ہیں، اور اگر دلائل نہیں دیے جاتے تو کارروائی آگے بڑھانا ممکن نہیں ہوگا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کو ہدایات دی جا سکتی ہیں تاکہ قانونی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
نیب پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر وکالت نامے پر اعتراض موجود ہے تو اسے سپریم کورٹ میں اٹھایا جا سکتا ہے، جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ اس وقت اپیلوں کی سماعت کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت، عمران خان سے ملاقات کی اجازت مل گئی
سماعت کے دوران چیف جسٹس اور وکیل سلمان اکرم راجہ کے درمیان مکالمہ بھی ہوا، جس میں عدالت نے بار بار تاخیر سے گریز کرنے کی ہدایت کی۔
بعد ازاں عدالت نے سلمان صفدر کی جانب سے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔













