پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل

بدھ 20 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مشیرِ وزیرِ خزانہ خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات زیادہ تر ایلیٹ کلاس اور گاڑی استعمال کرنے والوں پر پڑتے ہیں۔

ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خرم شہزاد کا کہنا تھا کہ یٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر کار استعمال کرنے والے اور ایلیٹ طبقے پر ہوتا ہے جبکہ موٹرسائیکل سوار اس سے زیادہ متاثر نہیں ہوتے کیونکہ ان کو تو سپورٹ مل رہی ہے۔

خرم شہزاد کے اس بیان نے سوشل اور سیاسی حلقوں میں شدید ردِعمل کو جنم دیا ہے جہاں عوامی حلقوں نے اسے زمینی حقائق سے لاعلمی اور متوسط و غریب طبقے کے مسائل کا مذاق قرار دیا۔

 ناقدین کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ صرف گاڑی مالکان نہیں بلکہ موٹرسائیکل سوار، دیہاڑی دار مزدور اور عام شہری بھی روزمرہ اخراجات، کرایوں اور مہنگائی کی صورت میں بھگتتے ہیں۔

محمد عمیر نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی مشیر زخم دے کر ساتھ نمک بھی چھڑک رہے۔

 ثنا اللہ خان کا کہنا تھا کہ 24 لاکھ روپے تنخواہ،سرکاری گاڑی،سرکاری پیٹرول،ہوائی سفر سرکاری خرم شہزاد کو کیا فرق پڑتا ہے کہ ڈیزل اور پیٹرول چاہے 411 روپے سے بڑھ کر ایک ہزار کا ہو جائے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔

ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ ان کو احساس ہی نہیں کہ عوام کس عذاب سے گزر رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp