پنجاب حکومت نے ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے اور گرین سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کچرے کو توانائی اور قابلِ استعمال مصنوعات میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر کام تیز کردیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت حکومت نجی شعبے کو ویسٹ ٹو انرجی، بائیو گیس اور ری سائیکلنگ منصوبوں کے لیے مراعات اور سرکاری زمین لیز پر دینے پر غور کررہی ہے۔
مجوزہ پالیسی کے تحت نجی کمپنیوں کو سرکاری اراضی لیز پر فراہم کی جا سکے گی تاکہ کچرے سے توانائی، بائیو گیس اور دیگر قابلِ استعمال مصنوعات تیار کی جا سکیں۔
اس اقدام کا مقصد ماحولیاتی آلودگی میں کمی، قابلِ تجدید توانائی کی پیداوار اور بلدیاتی کچرے سے آمدن حاصل کرنا ہے۔
حکام کے مطابق پنجاب کے ویسٹ مینجمنٹ نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور روایتی جمع کرو اور پھینک دو نظام سے نکلنے کے لیے نئی پالیسی تیار کی جا رہی ہے، کیونکہ موجودہ طریقہ لینڈ فل سائٹس میں اضافے، میتھین گیس کے اخراج اور شہری آلودگی کا سبب بن رہا تھا۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ماحول دوست منصوبوں کے لیے سرکاری زمین لیز پر دینے کے قواعد و ضوابط کو حتمی شکل دی جا رہی ہے جبکہ تفصیلی ریگولیٹری گائیڈ لائنز بھی تیار کی جا رہی ہیں۔
یہ پیش رفت وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت ویسٹ ٹو ویلیو مرحلے پر تیزی سے کام کے دوران سامنے آئی ہے۔
صوبائی وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے حالیہ اجلاس میں کہاکہ یہ منصوبہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ہزاروں ٹن کچرے کو توانائی اور قابلِ استعمال مصنوعات میں تبدیل کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ لاہور کے لکھوڈیر لینڈ فل سائٹ پر قائم پائلٹ بائیو سی این جی پلانٹ نے پیداوار شروع کردی ہے جہاں ابتدائی طور پر روزانہ 85 کلوگرام سی این جی کچرے سے حاصل کی جا رہی ہے جبکہ میتھین کی مقدار میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق یہ منصوبہ ایک خودکار گردشی معیشت کے ماڈل کے طور پر تیار کیا جارہا ہے جس کے ذریعے کچرے میں کمی کے ساتھ قابلِ تجدید توانائی اور معاشی فوائد بھی حاصل ہوں گے۔
ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ پنجاب میں تیزی سے بڑھتی شہری آبادی اور کچرے کی بڑھتی مقدار کے باعث پائیدار ویسٹ مینجمنٹ اصلاحات وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہیں۔
حکام نے بتایا کہ ریگولیٹری فریم ورک اور سرمایہ کاری کے ڈھانچے پر کام جاری ہے جبکہ آئندہ مہینوں میں مزید پائلٹ منصوبوں اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس کا اعلان متوقع ہے تاکہ پنجاب کو ماحولیاتی ترقی اور گرین انفراسٹرکچر کے شعبے میں نمایاں مقام دلایا جا سکے۔














