یومِ ترویہ پر منیٰ میں عازمینِ حج کی آمد، جدید انتظامات نے دنیا کو حیران کردیا

پیر 25 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یومِ ترویہ یعنی 8 ذوالحج کے آغاز اور عازمینِ حج کے پہلے قافلوں کی آمد کے ساتھ ہی منیٰ ایک بار پھر دنیا میں موسمی انتظامات کی شاندار ترین مثال بن کر سامنے آگیا ہے۔

مکہ مکرمہ کے قلب میں واقع یہ وادی چند ہی دنوں میں ایک مکمل اور جدید شہر کی شکل اختیار کرلیتی ہے، جہاں لاکھوں حجاج کرام نہایت منظم انداز میں عبادات کی ادائیگی کے لیے جمع ہوتے ہیں۔

منیٰ کو ایک جدید موسمی اسمارٹ سٹی کی حیثیت حاصل ہے، جہاں صرف سفید خیموں کا وسیع جال ہی نہیں بلکہ پسِ منظر میں ایک انتہائی مربوط اور مؤثر نظام بھی فعال ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسمارٹ کارڈ، ہیلتھ مانیٹرنگ ایپس اور کلینر روبوٹس کیسے حج 2026 کو بہتر بنا رہے ہیں؟

اس نظام میں بجلی اور کولنگ کے جدید نیٹ ورکس، ہجوم کو منظم رکھنے کے طریقۂ کار، پیدل چلنے والوں کے لیے مخصوص راستوں کی منصوبہ بندی اور لوگوں کی نقل و حرکت کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی شامل ہے۔

اس کے ساتھ سیکیورٹی، صحت اور خوراک کی فراہمی جیسی سہولیات بھی مربوط انداز میں کام کرتی ہیں، جس سے مشاعرِ مقدسہ دنیا میں بڑے اجتماعات کے انتظام کا ایک منفرد نمونہ بن جاتے ہیں۔

منیٰ میں جدید طرز کے خیموں کا مجموعی رقبہ تقریباً 25 لاکھ مربع میٹر پر مشتمل ہے، جو اعلیٰ ترین حفاظتی معیارات کے مطابق تیار کیے گئے ہیں، ان خیموں میں 26 لاکھ سے زائد عازمینِ حج کو ٹھہرانے کی گنجائش موجود ہے۔

ہر سال حج سیزن کے ساتھ منیٰ صرف ایک قیام گاہ نہیں رہتا بلکہ حجاج کے تجربے کو مزید بہتر بنانے کے لیے ایک مسلسل ترقی پذیر منصوبے کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔

رواں برس بھی ‘انسان دوست شہری ترقی’ کے تصور کے تحت کئی بڑے منصوبے مکمل کیے گئے، جن میں سایہ دار مقامات اور آرام گاہوں میں اضافہ، شہری ماحول کی بہتری اور پیدل چلنے والوں کے لیے کشادہ اور آسان راستوں کی تعمیر شامل ہے۔

منیٰ کی سب سے منفرد بات اس کی مخصوص رفتارِ زندگی ہے، یہ شہر چند دنوں کے لیے دنیا کی سب سے گنجان آبادیوں میں تبدیل ہوجاتا ہے، حج کے اختتام پر دوبارہ خاموشی میں ڈوب جاتا ہے اور پھر اگلے حج سیزن کی تیاریوں کا آغاز کردیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب نے حجاج کو گرمی کی شدت سے بچانے کے لیے کیا خصوصی اقدامات کیے ہیں؟

شام ڈھلتے ہی روشن راستوں پر لاکھوں حجاج اپنے خیموں اور جمرات کے درمیان پرامن انداز میں سفر کرتے دکھائی دیتے ہیں، جو ایمان اور انسانیت کا ایک عظیم منظر پیش کرتا ہے۔

یہ روح پرور ماحول سعودی عرب کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور وسیع وسائل کو بروئے کار لاکر حجاج کرام کو بہترین سہولیات فراہم کی جائیں۔

طویل المدتی منصوبہ بندی کے تحت سعودی حکام مسلسل مشاعر مقدسہ کو ترقی دے رہے ہیں تاکہ انتظامی کارکردگی بہتر ہو، شدید گرمی کے اثرات کم کیے جاسکیں اور حجاج کے مجموعی تجربے کو مزید آرام دہ بنایا جاسکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسٹاک ایکسچینج شدید مندی کا شکار، انڈیکس تقریباً 5 ہزار پوائنٹس گر گیا

جیف بیزوس کی سابق اہلیہ میکینزی اسکاٹ کا نوجوانوں کی ذہنی صحت کے لیے 2 کروڑ ڈالر کا تاریخی عطیہ

کراچی رینجرز ہیڈکوارٹر حملہ: پولیس نے جُرم کی منصوبہ بندی اور سہولت کار نیٹ ورک کی تفصیلات جاری کر دیں

جج کے ڈیسک پر کالا جادو کرنے والی 65 سالہ خاتون کمرہ عدالت سے گرفتار

خوابوں کا تعاقب مہنگا پڑ گیا، سوئٹزرلینڈ میں کروڑوں کی نوکری چھوڑنے والا نوجوان پچھتانے لگا

ویڈیو

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم