کراچی میں ہونے والا فضائی حادثہ جس نے پاکستان کے ایوی ایشن نظام کو ہلا کر رکھ دیا

منگل 26 مئی 2026
author image

عبید الرحمان عباسی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سنہ 2020  کی عیدالفطر سے صرف ایک دن پہلے پاکستان بھر میں عید کی تیاریاں زوروشور سے جاری تھیں۔ لاہور ایئرپورٹ پر غیر معمولی رش تھا۔ کوئی اپنے والدین سے ملنے کراچی جا رہا تھا، کوئی بچوں کے لیے عیدی لے کر روانہ ہو رہا تھا تو کوئی برسوں بعد گھر لوٹ رہا تھا۔

اسی ہجوم کے درمیان پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی پرواز PK-8303 لاہور سے کراچی کے لیے روانہ ہوئی۔ جہاز میں 99 افراد سوار تھے۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ سفر پاکستان کی جدید فضائی تاریخ کے خوفناک ترین سانحات میں تبدیل ہونے والا ہے۔

جب خطرہ واضح ہو چکا تھا: دوپہر کے وقت جب جہاز کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب پہنچا تو موسم صاف تھا۔ بظاہر لینڈنگ میں کوئی رکاوٹ موجود نہیں تھی۔ مگر کاک پٹ کے اندر صورتحال مختلف تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ہری پور کے 88 فیصد بچوں میں انتہائی خطرناک بیماری  کا انکشاف

 کیونکہ تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق جہاز لینڈنگ کے لیے مقررہ پروفائل سے کہیں زیادہ اونچائی اور رفتار پر تھا۔ ایئر ٹریفک کنٹرول بار بار پائلٹس کو خبردار کر رہا تھا کہ اپروچ غیر معمولی ہے مگر ان ہدایات کے باوجود لینڈنگ جاری رکھی گئی۔ انا اور اوور کانفیڈینس نے کپتان کو گھیرے میں لیا ہوا تھا۔

پھر وہ لمحہ آیا جس نے سب کچھ بدل دیا: لینڈنگ گیئر مکمل طور پر نیچے کیے بغیر جہاز رن وے پر آ گیا۔  ایئر بس کے دونوں انجن رن وے سے ٹکرائے ہزاروں فٹ تک دھات رگڑنے کے نشانات بنے، چنگاریاں اٹھیں اور انجن شدید متاثر ہوئے۔ اس کے باوجود جہاز دوبارہ اوپر اٹھا لیا گیا۔ چند لمحوں بعد دونوں انجن طاقت کھونے لگے۔ پھر کاک پٹ سے وہ جملہ سنائی دیا جسے دنیا بھر میں ہر فضائی ماہر خطرے کی آخری گھنٹی سمجھتا ہے: ‘Mayday… Mayday’۔

جہاز تیزی سے نیچے آنے لگا۔ کراچی کی آبادی ماڈل کالونی کے لوگ حیرت سے آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے۔ پھر اچانک ایک خوفناک دھماکہ ہوا۔ آگ کا گولہ گھروں پر آ گرا۔ کئی مکانات تباہ ہو گئے، آگ پھیل گئی، چیخ و پکار مچ گئی، اور چند سیکنڈز میں پورا علاقہ قیامت کا منظر پیش کرنے لگا۔ 97 افراد جان سے چلے گئے۔

صرف 2 مسافر معجزانہ طور پر زندہ بچ سکے۔ زندہ بچ جانے والے مسافر، ملبے سے نکلتی زندگی، صدر بینک آف پنجاب ظفر مسعود اور ایک اور شہری محمد زبیر۔

ظفر مسعود بعد میں میڈیا کو بتاتے رہے کہ حادثے کے بعد ہر طرف آگ، دھواں اور تباہی تھی۔ انہیں یقین ہو چکا تھا کہ شاید کوئی زندہ نہیں بچ سکے گا مگر ملبے میں ایک چھوٹا سا راستہ بنا اور وہ شدید زخمی حالت میں باہر نکل آئے۔

مزید پڑھیے: پاکستان کی محفوظ فضاؤں کے پسِ پردہ ماہرین

محمد زبیر بھی شدید زخمی تھے مگر زندہ بچ گئے۔ یہ واقعہ آج بھی بہت سے لوگوں کے نزدیک کسی معجزے سے کم نہیں۔

تحقیقاتی رپورٹ: صرف ’پائلٹ ایرر‘ یا کچھ اور بھی؟

ابتدائی اور بعد کی حتمی تحقیقاتی رپورٹس میں بنیادی ذمہ داری پائلٹس کی غلطیوں کو قرار دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ایس او پیز پر عمل نہیں کیا گیا۔

جہاز غیر محفوظ اپروچ پر تھا، کاک پٹ ریسورس منیجمنٹ ناکام رہی۔

لینڈنگ گیئر مناسب وقت پر deploy نہیں کیا گیا پائلٹس نے ایئر ٹریفک کنٹرول کی متعدد وارننگز کو نظر انداز کیا۔ رن وے پر انجن ٹکرانے کے بعد بھی صورتحال کا درست اندازہ نہیں لگایا گیا رپورٹ میں حادثے کو بنیادی طور پر ’ہیومن ایرر‘ قرار دیا گیا۔

تاہم ایوی ایشن ماہرین آج بھی سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا صرف پائلٹس ہی اس سانحے کے ذمہ دار تھے؟

ایئر ٹریفک کنٹرول، وہ سوالات جو آج بھی زندہ ہیں پاکستان اور بین الاقوامی ہوا بازی کے کئی مماہرین کے مطابق کراچی ایئرپورٹ کے ایئر ٹریفک کنٹرول ٹاور، پروسیجرل کنٹرولرز اوسر ایریا کنٹرولرز کے کردار پر بھی سنجیدہ سوالات موجود ہیں۔

ناقدین کے مطابق جب جہاز غیر معمولی اونچائی اور رفتار کے ساتھ اپروچ کر رہا تھا، تو اے ٹی سی کو زیادہ سخت اور فیصلہ کن مداخلت کرنی چاہیے تھی۔ بعض سابق پائلٹس کا کہنا ہے کہ ’گراؤنڈ اراؤنڈ‘ کی ہدایات پہلے اور زیادہ واضح انداز میں دی جانی چاہیے تھیں۔

یہ سوال بھی آج تک مکمل طور پر حل نہیں ہو سکا کہ جب رن وے پر پہلی مرتبہ جہاز کے انجن رگڑے گئے تو کیا ٹاور کو انجن ڈیمیج کی شدت کا درست اندازہ تھا؟

کیا ایمرجنسی ہنڈلنگ مکمل ICAO standards کے مطابق ہوئی؟ کیا سپروائزری  اووسائٹ مؤثر تھا؟

کیا کاک پٹ اور اے ٹی سی کے درمیان  ڈسپلن کمیونیکیشن مطلوبہ سطح پر موجود تھا؟

اور سب سے اہم… کیا یہ حادثہ بہتر کووآرڈینیشن سے روکا جا سکتا تھا؟

کئی ماہرین کے مطابق PK-8303 حادثہ صرف ایک  پائلٹ ایرر نہیں بلکہ پاکستان کے پورے aviation safety culture، training standards، oversight mechanism  اور operational discipline کی ناکامی کا عکاس تھا۔

جعلی لائسنس اسکینڈل اور یورپ میں پی آئی اے فلائٹس پر پابندی

حادثے کے فوراً بعد پاکستان میں ’مشکوک یا جعلی پائلٹ لائسنس‘ اسکینڈل سامنے آیا۔ اس وقت کے وزیر ہوا بازی کے  غیر ذمے دارانہ بیان نے عالمی سطح پر تہلکہ مچا دیا جب یہ کہا گیا کہ کئی پاکستانی پائلٹس کے لائسنس مشکوک تھے۔

مزید پڑھیں: عالمی امن کی راہ میں پاکستان کا کلیدی کردار

اس انکشاف نے دنیا بھر میں European Union Aviation Safety Agency  سمیت عالمی ایوی ایشن اداروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ نتیجتاً سنہ 2020 میں یورپی یونین نے پی آئی اے کی یورپ کے لیے پروازوں پر پابندی لگا دی۔ اگرچہ پابندی کی وجہ صرف PK-8303 نہیں تھی مگر اس حادثے اور بعد میں سامنے آنے والے لائسنس اسکینڈل نے پاکستان کے ایوی ایشن سسٹم پر عالمی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا۔ یہ پابندی تقریباً ساڑھے 4 سال برقرار رہی۔

ایسا سانحہ جو آج بھی سوال بن کر زندہ ہے

یہ صرف ایک فضائی حادثہ نہیں تھا بلکہ یہ پاکستان کے ایوی ایشن سسٹم، حفاظتی نگرانی، تربیت، ادارہ جاتی کمزوریوں اور آپریشنل فیلیئر کی ایک خوفناک تصویر تھا۔

کراچی کی ماڈل کالونی میں آج بھی کچھ لوگ اس دن کے دھماکے اور چیخیں نہیں بھول سکے۔ کئی خاندان آج بھی عید کو سوگ کے دن کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ اور شاید سب سے تلخ حقیقت یہ ہے کہ 6 سال گزرنے کے باوجود اس حادثے سے جڑے کئی سوالات آج بھی مکمل جواب کے منتظر ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سینئر قانون دان کالم نگار اور فری لانس جرنلسٹ ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران سے ممکنہ امن معاہدہ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اہم کابینہ اجلاس طلب کرلیا

نیویارک: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی آذربائیجان اور کمبوڈیا کے ہم منصبوں سے ملاقاتیں، دوطرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق

اقوام متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف، عالمی امن کے لیے انصاف، مکالمہ اور قانون کی بالادستی ناگزیر قرار

طالبان رجیم کی سرپرستی میں افغان دہشتگرد فرنچائزز کا پھیلاؤ، عالمی خدشات میں اضافہ

مشترکہ اعلامیہ: پاک چین تعلقات نئی اسٹریٹجک بلندی پر، مستقبل کی نئی برادری کے قیام پر اتفاق

ویڈیو

یہ غلط فہمی ہے کہ یورپ میں مقیم پاکستانیوں کی اکثریت عمران خان کی حامی ہے، حافظ عبدالرحمان

عیدالاضحیٰ سیزن: مویشیوں کے چارے، سامان سجاوٹ کے عارضی اسٹالز، کم وقت میں بڑی کمائی کا ذریعہ

حج 2026 کے موقع پر میدان عرفات میں عازمین کے لیے شاندار انتظامات

کالم / تجزیہ

ہر راستہ بیجنگ کی جانب

عیدالاضحیٰ: پہل اسلام آباد سے کی جائے؟

بدرالدین بدر، معروف ادیبوں کا ایک فراموش کردہ دوست