پاکستان میں بچوں کی صحت سے متعلق ایک نہایت تشویشناک اور خطرناک حقیقت سامنے آئی ہے، جس نے ماہرینِ صحت، پالیسی سازوں اور عالمی اداروں کو سخت تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
یکم مئی 2026 کو وزارتِ قومی صحت (M/o NHSR&C) اور UNICEF کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ ملک کے مختلف صنعتی اور ہائی رسک علاقوں میں رہنے والے کمسن بچوں کے خون میں سیسے (Lead) کی خطرناک مقدار موجود ہے۔
رپورٹ کے مطابق 12 سے 36 ماہ کی عمر کے بچوں میں سے 10 میں سے 4 بچے (یعنی تقریباً 40 فیصد) سیسے سے متاثر پائے گئے۔ یہ تحقیق ملک کے سات بڑے شہروں—ہری پور، اسلام آباد، کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور راولپنڈی کے صنعتی اور آلودہ علاقوں میں رہنے والے 2100 سے زائد بچوں پر کی گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ تشویشناک صورتحال ضلع ہری پور کے صنعتی علاقے حطار میں سامنے آئی، جہاں 88 فیصد بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح پائی گئی۔ اس کے برعکس اسلام آباد میں یہ شرح صرف 1 فیصد رہی، جو واضح کرتا ہے کہ بہتر ماحولیاتی کنٹرول اور شہری منصوبہ بندی اس خطرے کو نمایاں حد تک کم کر سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق سیسہ ایک نہایت زہریلا دھات ہے جو بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کو شدید متاثر کرتا ہے۔ یہ نہ صرف قد کی نشوونما کو روکتا ہے بلکہ خون کی کمی (انیمیا)، مدافعتی نظام کی کمزوری، اور دماغی صلاحیتوں میں کمی کا باعث بھی بنتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بچوں کا آئی کیو لیول کم ہو سکتا ہے، توجہ کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے، یادداشت کمزور پڑتی ہے اور سیکھنے میں مشکلات کے ساتھ رویے کے مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ بچے بڑوں کے مقابلے میں 5 گنا زیادہ سیسہ جذب کر سکتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ اس زہریلے اثر کے لیے انتہائی حساس ہوتے ہیں۔
مزید برآں، ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ بچوں کے لیے سیسے کی کوئی محفوظ سطح موجود نہیں، یعنی معمولی مقدار بھی ناقابلِ واپسی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق سیسے کی آلودگی کے متعدد ذرائع ہیں، جن میں صنعتی دھواں، غیر رسمی بیٹری ری سائیکلنگ، سیسے والے پینٹ، آلودہ مصالحہ جات و خوراک، اور روایتی کاسمیٹکس شامل ہیں۔ پاکستان میں ان عوامل پر مؤثر نگرانی اور قانون سازی کے فقدان نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
عالمی تخمینوں کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد تک بچے کسی نہ کسی حد تک سیسے کے اثرات کا شکار ہو سکتے ہیں، جو دنیا میں بلند ترین شرحوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کے نہ صرف صحت بلکہ معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ سیسے کی آلودگی کے باعث پاکستان کو سالانہ 25 سے 35 ارب ڈالر (جی ڈی پی کا 6 سے 8 فیصد) تک معاشی نقصان ہو رہا ہے۔
وزارتِ صحت کے سیکرٹری محمد اسلم غوری کے مطابق بچوں کو سیسے سے بچانا قومی ترجیح ہونی چاہیے، اور اس کے لیے صحت، ماحولیات اور ریگولیٹری اداروں کے درمیان فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ اسی طرح Pernille Ironside نے خبردار کیا کہ سیسہ بچوں کے دماغ پر تباہ کن اور زندگی بھر رہنے والے اثرات چھوڑتا ہے، اور اس کے خلاف فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔
ماہرین اور عالمی ادارے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے ایک جامع قومی حکمت عملی تیار کی جائے، جس میں:
سیسے پر مشتمل مصنوعات کے خاتمے کے لیے قومی ایکشن پلان کا قیام،
بچوں کے خون میں سیسے کی سطح کی باقاعدہ نگرانی (Surveillance System)
عوامی آگاہی مہمات سخت ماحولیاتی قوانین اور ان پر عملدرآمد اور ایک بین الادارہ جاتی ٹاسک فورس کا قیام شامل ہو
مزید برآں، اسی سال ایک قومی سطح کا سروے بھی متوقع ہے، جس میں بچوں اور حاملہ خواتین میں سیسے کی مقدار کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ مستقبل کی پالیسی سازی کو مؤثر بنایا جا سکے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ انتہائی تلخ ہے کہ سیسے سے پیدا ہونے والا یہ بحران مکمل طور پر قابلِ روک تھام ہے، مگر غفلت، ناقص حکمت عملی اور کمزور عملدرآمد نے اسے ایک خاموش وبا میں تبدیل کر دیا ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں نہ صرف صحت کے مسائل بلکہ تعلیمی اور معاشی پسماندگی کا بھی شکار ہوں گی۔
ماہرین کی آراء اس بات پر متفق ہیں کہ سیسے کا مسئلہ ایک ’سلو پوائزننگ کرائسس‘ ہے۔ یعنی ایسا زہر جو آہستہ آہستہ پوری نسل کو متاثر کرتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں پہلے ہی صحت اور تعلیم کے چیلنجز موجود ہیں، یہ مسئلہ ایک ’ملٹی پلائر ایفیکٹ‘ پیدا کر سکتا ہے۔
لہٰذا اب یہ صرف ایک طبی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک قومی ایمرجنسی ہے، جس کے حل کے لیے فوری، سخت اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ اگر آج فیصلہ کن قدم نہ اٹھایا گیا تو کل ایک کمزور، بیمار اور ذہنی طور پر متاثرہ نسل ہمارا مستقبل بن سکتی ہے۔
بچوں میں سیسے کی موجودگی سیکھنے کی صلاحیت، رویے اور تعلیمی کارکردگی کو شدید متاثر کرتی ہے، اور یہ مسئلہ زیادہ تر ترقی پذیر ممالک میں خطرناک حد تک نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ لورہ العاظم ہسپتال لورہ کے چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر جہانگیر عباسی کے مطابق ک اگر صنعتی اخراج، بیٹری ری سائیکلنگ، اور غیر معیاری مصنوعات پر فوری کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ مسئلہ نہ صرف صحت بلکہ قومی ترقی کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن جائے گا۔
ماہرین کی آراء اس بات پر بھی متفق ہیں کہ سیسے کا مسئلہ ایک ’سلو پوائزننگ کرائسس‘ ہے، یعنی ایسا زہر جو آہستہ آہستہ پوری نسل کو متاثر کرتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں پہلے ہی صحت اور تعلیم کے چیلنجز موجود ہیں، یہ مسئلہ ایک ’ملٹی پلائر ایفیکٹ‘ پیدا کر سکتا ہے۔
لہٰذا اب یہ صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی ایمرجنسی ہے، جس کے حل کے لیے فوری، سخت اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ اگر آج فیصلہ کن قدم نہ اٹھایا گیا تو کل ایک کمزور، بیمار اور ذہنی طور پر متاثرہ نسل ہمارا مستقبل بن سکتی ہے۔
یہ وقت ہے کہ حکومت، ادارے اور معاشرہ مل کر اس خطرے کا مقابلہ کریں کیونکہ بچوں کا محفوظ مستقبل ہی ایک مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














