عیدالاضحیٰ سیزن: مویشیوں کے چارے، سامان سجاوٹ کے عارضی اسٹالز، کم وقت میں بڑی کمائی کا ذریعہ

منگل 26 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عید الاضحیٰ کے قریب آتے ہی پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں بالخصوص کراچی جیسے تجارتی مرکز کی رونقیں ایک نیا رخ اختیار کرلیتی ہیں۔ جہاں ایک طرف مویشی منڈیوں میں خریداروں کا ہجوم ہوتا ہے وہیں دوسری طرف شہر بھر کی گلیوں، چوراہوں اور شاہراہوں پر جانوروں کے چارے اور ان کے بناؤ سنگھار کے سامان کے عارضی اسٹالز بہار دکھانے لگتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: عید الاضحیٰ پر اجتماعی قربانیوں میں اضافہ، لیدر انڈسٹری کے لیے خام مال کا بحران بڑھنے کا خدشہ

یہ محض چند دنوں کا کاروبار دکھائی دیتا ہے لیکن حقیقت میں یہ معاشی سرگرمیوں، روزگار کی فراہمی اور عید کی روایتی گہما گہمی کا ایک اہم ترین ستون ہے۔ عید قرباں پر لگنے والے یہ عارضی اسٹالز مقامی سطح پر ایک بہترین اور تیز رفتار معاشی سرگری کا ذریعہ بنتے ہیں۔

 کم سرمایہ کاری، مناسب منافع

چارے (لوسن، جنتر، توڑی) اور جانوروں کے زیورات (گھنگھرو، ہار، پٹے، مہریں) کا کاروبار بہت کم سرمائے سے شروع کیا جا سکتا ہے جس کی وجہ سے چھوٹے دکاندار یا دیہاڑی دار طبقہ بھی اسے باآسانی اپنا لیتا ہے۔

مقامی مارکیٹ میں تیزی

ان اسٹالز کی وجہ سے شہر کے اندر ہی خریداروں کو ان کی دہلیز پر تمام سہولیات مل جاتی ہیں۔ شہریوں کو جانوروں کی خوراک یا سجاوٹ کے لیے دور دراز منڈیوں کا رخ نہیں کرنا پڑتا۔

عید کی خوشیوں کا اظہار

جانوروں کو سجانا اور ان کی خدمت کرنا ہمارے معاشرے میں عیدِ قرباں کی روایات کا ایک خوبصورت حصہ ہے۔ یہ اسٹالز بچوں اور بڑوں میں قربانی کے جانوروں کے حوالے سے جوش و خروش کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔

مزید پڑھیے: عید الاضحیٰ پر آلائشیں گلیوں میں پھینکنے والوں کو کتنا جرمانہ ہوگا؟

دور دراز علاقوں کے افراد کے لیے بھی روزگار کا سنہری موقع

اس عارضی کاروبار کا سب سے بڑا حسن یہ ہے کہ یہ صرف مقامی لوگوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ ملک کے دیگر پسماندہ یا دیہی علاقوں سے آنے والے محنت کشوں کے لیے روزگار کا ایک بڑا وسیلہ بنتا ہے۔

 موسمی ہجرت اور روزگار

پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے دیہی علاقوں سے بڑی تعداد میں نوجوان اور محنت کش عید سے 2،3 ہفتے قبل بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں۔

 چارے کی سپلائی چین

دیہاتوں سے ہرا چارہ اور بھوسہ ٹرکوں کے ذریعے شہروں میں لایا جاتا ہے۔ اس عمل میں زمیندار، ٹرک ڈرائیور، مزدور اور پھر شہر میں اسٹال لگانے والے سب ہی ایک ہی وقت میں کما رہے ہوتے ہیں۔

 دستکاری کو فروغ

جانوروں کے بناؤ سنگھار کا سامان (جیسے رنگ برنگے ریشمی دھاگوں سے بنے ہار، چمڑے کے پٹے اور گھنگھرو) زیادہ تر دیہی خواتین و مرد کاریگر اپنے ہاتھوں سے تیار کرتے ہیں۔ شہروں میں ان اشیا کی فروخت سے براہِ راست فائدہ ان پسماندہ علاقوں کے ہنرمندوں کو پہنچتا ہے۔

 گھر بار کے لیے عید کا خرچ

یہ پردیسی محنت کش دن رات سڑکوں پر سخت گرمی یا حبس میں گزار کر جو چند پیسے کماتے ہیں اس سے وہ عید کے موقعے پر اپنے علاقوں میں موجود اہلخانہ کے لیے نئے کپڑے، راشن اور دیگر ضروریاتِ زندگی خریدنے کے قابل ہوتے ہیں۔ یوں بڑے شہروں کی یہ معاشی رونق دور دراز دیہاتوں کے چولہے جلانے کا بھی باعث بنتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران سے ممکنہ امن معاہدہ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اہم کابینہ اجلاس طلب کرلیا

نیویارک: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی آذربائیجان اور کمبوڈیا کے ہم منصبوں سے ملاقاتیں، دوطرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق

اقوام متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف، عالمی امن کے لیے انصاف، مکالمہ اور قانون کی بالادستی ناگزیر قرار

طالبان رجیم کی سرپرستی میں افغان دہشتگرد فرنچائزز کا پھیلاؤ، عالمی خدشات میں اضافہ

مشترکہ اعلامیہ: پاک چین تعلقات نئی اسٹریٹجک بلندی پر، مستقبل کی نئی برادری کے قیام پر اتفاق

ویڈیو

یہ غلط فہمی ہے کہ یورپ میں مقیم پاکستانیوں کی اکثریت عمران خان کی حامی ہے، حافظ عبدالرحمان

حج 2026 کے موقع پر میدان عرفات میں عازمین کے لیے شاندار انتظامات

کوئٹہ میں 2 من کے بکرے کی دھوم، قیمت سُن کر ہوش اڑ جائیں گے

کالم / تجزیہ

ہر راستہ بیجنگ کی جانب

کراچی میں ہونے والا فضائی حادثہ جس نے پاکستان کے ایوی ایشن نظام کو ہلا کر رکھ دیا

عیدالاضحیٰ: پہل اسلام آباد سے کی جائے؟