بلوچستان کے ضلع چاغی میں جاری سیندک گولڈ اینڈ کاپر منصوبہ صوبے کی معیشت کے لیے ایک اہم ستون کی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے، جہاں گزشتہ 3 برس کے دوران بلوچستان حکومت کو رائلٹی کی مد میں 14 ارب روپے سے زیادہ کی رقم موصول ہوئی ہے۔
حکام کے مطابق منصوبے کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر صوبے کو 27 ارب 28 کروڑ 28 لاکھ روپے سے زیادہ کی رائلٹی ادا کی جا چکی ہے، جو معدنی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدن میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
مزید پڑھیں: وفاقی وزرا کا وزیراعلیٰ بلوچستان کے ہمراہ اجلاس، کیا فیصلے ہوئے؟
ذرائع کے مطابق بلوچستان حکومت کو سیندک منصوبے کے تحت سنہ 2004 سے رائلٹی کی ادائیگیاں کی جا رہی ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں سنہ 2004 سے ستمبر 2017 تک صوبے کو 2 فیصد رائلٹی دی جاتی رہی، جس کے تحت بلوچستان کو 7 ارب 14 کروڑ 88 لاکھ 39 ہزار روپے سے زیادہ رقم ادا کی گئی۔
بعد ازاں ستمبر 2017 میں رائلٹی کی شرح بڑھا کر 5 فیصد کردی گئی، جس کے نتیجے میں دسمبر 2022 تک صوبے کو 5 ارب 96 کروڑ 19 لاکھ 58 ہزار روپے سے زیادہ کی ادائیگی کی گئی۔
اسی طرح جنوری 2023 سے اپریل 2026 تک رائلٹی کی شرح مزید بڑھا کر 6.5 فیصد کردی گئی، اور اس عرصے میں صوبے کو 14 ارب 17 کروڑ 20 لاکھ 10 ہزار روپے سے زیادہ رقم موصول ہوئی۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ 22 برس میں سیندک منصوبے سے بلوچستان کو مجموعی طور پر 27 ارب 28 کروڑ 28 لاکھ 7 ہزار روپے سے زیادہ کی رائلٹی حاصل ہو چکی ہے، جو صوبائی آمدن میں ایک اہم اضافہ تصور کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق رائلٹی کی شرح میں مرحلہ وار اضافے سے بلوچستان کی مالی حیثیت میں بہتری آئی ہے، تاہم ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ معدنی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدن کو مقامی آبادی کی فلاح، بنیادی سہولیات، تعلیم، صحت اور روزگار کے منصوبوں پر خرچ کرنا ناگزیر ہے تاکہ وسائل کے ثمرات براہ راست عوام تک پہنچ سکیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سیندک منصوبہ بلوچستان میں سرمایہ کاری اور معدنی ترقی کی ایک بڑی مثال بن چکا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کی شمولیت، ماحولیات کے تحفظ اور شفاف مالی نظام کو یقینی بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
ان کے مطابق اگر معدنی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدن کو بہتر حکمت عملی کے تحت استعمال کیا جائے تو بلوچستان نہ صرف معاشی طور پر مستحکم ہو سکتا ہے بلکہ صوبے میں بے روزگاری اور پسماندگی جیسے مسائل میں بھی نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: ملک کو درپیش تمام بحرانوں کے ذمہ دارعمران خان ہیں: ثناء بلوچ، رکن بلوچستان اسمبلی کا خصوصی انٹرویو
اقتصادی ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ حالیہ برسوں میں رائلٹی کی مد میں ہونے والا اضافہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بلوچستان کے قدرتی وسائل قومی معیشت میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ صوبے میں معدنیات سے متعلق مزید منصوبوں میں مقامی افراد کو روزگار، تربیت اور کاروباری مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ ترقی کا عمل دیرپا اور عوام دوست بن سکے۔












