امریکا ایران کشیدگی میں اضافہ، سونے کی قیمت 2 ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی

جمعرات 28 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی میں اضافہ ہوگیا ہے، جس کے نتیجے میں سونے کی قیمت 2 ماہ کی کم ترین سطح تک گر گئی۔ امریکی ڈالر کی مضبوطی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کے خدشات بڑھا دیے ہیں، جبکہ سرمایہ کار اب امریکی شرح سود سے متعلق آئندہ فیصلوں پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔

جمعرات کو اسپاٹ گولڈ کی قیمت میں 1.7 فیصد کمی ہوئی، جس کے بعد فی اونس قیمت 4 ہزار 380 ڈالر 62 سینٹ تک گر گئی۔ اس سے قبل سونے کی قیمت 26 مارچ کے بعد اپنی کم ترین سطح تک پہنچ گئی تھی۔ اسی طرح جون میں ڈلیوری کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز بھی 1.6 فیصد کمی کے ساتھ 4 ہزار 377 ڈالر 10 سینٹ پر آ گئے۔

یہ بھی پڑھیے سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کی حیران کن کمی، نئی قیمت کیا ہو گئی؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران پر امریکی حملوں کے بعد امریکی ڈالر ایک ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جس کے باعث دیگر کرنسیوں کے حامل سرمایہ کاروں کے لیے سونا مزید مہنگا ہو گیا۔

مالیاتی ادارے اسٹون ایکس کے سینئر تجزیہ کار میٹ سمپسن کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی بدستور برقرار ہے اور امن مذاکرات سے متعلق کئی بار غلط امیدیں پیدا ہو چکی ہیں، اس لیے امریکی ڈالر کی مضبوطی جاری رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث سونے کی قیمت دباؤ میں رہ سکتی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق امریکی فوج نے ایران میں ایک ایسے فوجی مقام کو نشانہ بنایا جسے امریکی افواج اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرہ سمجھا جا رہا تھا۔ یہ کارروائی اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک بحال کرنے سے متعلق معاہدے کی خبروں کو مسترد کر دیا۔

دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملے کے جواب میں ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

معاشی ماہرین کے مطابق تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں افراطِ زر میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں، جس کے باعث شرح سود طویل عرصے تک بلند رہنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اگرچہ سونے کو مہنگائی کے خلاف محفوظ سرمایہ کاری تصور کیا جاتا ہے، تاہم بلند شرح سود غیر منافع بخش دھاتوں پر منفی اثر ڈالتی ہے۔

امریکی فیڈرل ریزرو کی گورنر لیزا کُک نے بدھ کے روز کہا کہ فی الحال مرکزی بینک کو قلیل مدتی شرح سود برقرار رکھنی چاہیے، تاہم ٹیرف، ایران جنگ اور مصنوعی ذہانت سے متعلق سرمایہ کاری میں اضافے کے باعث قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا تو شرح سود بڑھانے کا آپشن بھی موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیے جنوبی ایشیا میں شادی کی روایات مہنگی پڑ گئیں، سونے کے بجائے متبادل جیولری کا رجحان تیزی سے بڑھنے لگا

سرمایہ کار اب امریکی پرسنل کنزمپشن ایکسپینڈیچر (PCE) ڈیٹا کے اجرا کے منتظر ہیں، جس سے فیڈرل ریزرو کی آئندہ مالیاتی پالیسی کے بارے میں اشارے ملنے کی توقع ہے۔

دوسری قیمتی دھاتوں میں بھی کمی دیکھی گئی۔ اسپاٹ سلور 3 فیصد کمی کے بعد 72 ڈالر 37 سینٹ فی اونس پر آ گئی، جبکہ پلاٹینم 1.4 فیصد کمی کے ساتھ ایک ہزار 890 ڈالر 81 سینٹ پر پہنچ گیا۔ پیلاڈیم کی قیمت بھی 1.9 فیصد گر کر ایک ہزار 364 ڈالر 26 سینٹ فی اونس ہو گئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp