امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کے لیے مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، تاہم دونوں ممالک ابھی مکمل اتفاق رائے تک نہیں پہنچ سکے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران معاہدے کے قریب ہیں، جبکہ امریکا اس پوزیشن میں ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو نمایاں حد تک پیچھے دھکیل
سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی امن کوششیں مزید تیز، اسحاق ڈار کا اہم دورۂ واشنگٹن، کل مارکو روبیو سے ملاقات ہوگی
ادھر ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ امریکا اور ایران نے جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت پر عائد پابندیاں ختم کرنے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم اس معاہدے کی حتمی منظوری
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مشروط ہے۔
Vance said the US has made significant progress in discussions with Tehran, noting ongoing exchanges over the draft framework of a potential agreement. He described the process as moving forward but still incomplete.
Read more: https://t.co/qUseHxRh2k pic.twitter.com/nkixV41XOg
— Roya News English (@RoyaNewsEnglish) May 29, 2026
جے ڈی وینس کے مطابق تہران کے ساتھ مذاکرات میں اب بھی چند اہم نکات پر اختلافات موجود ہیں، جن میں افزودہ یورینیم کے ذخائر اور یورینیم افزودگی کا معاملہ شامل ہے۔
‘یہ کہنا مشکل ہے کہ صدر کب یا آیا اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کریں گے یا نہیں، کیونکہ چند نکات کی زبان پر ابھی بھی دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت جاری ہے۔’
مزید پڑھیں: امریکا ایران مذاکرات میں پاکستان نے تعمیری کردار ادا کیا، چین کی جانب سے حمایت کا اعادہ
امریکی نائب صدر نے مزید کہا کہ وہ اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتے کہ معاہدہ ضرور طے پا جائے گا، تاہم موجودہ صورتحال کے حوالے سے وہ کافی پرامید ہیں۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کو خطے میں استحکام کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔













