عید کے بعد پہلے کاروباری سیشن میں اسٹاک ایکسچینج میں زبردست خریداری کا رجحان ریکارڈ کیا گیا، جہاں جمعہ کے روز کاروبار کے پہلے نصف میں انڈیکس میں 1400 سے زائد پوائنٹس کا نمایاں
اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دوپہر 12 بجے کے قریب بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 173,150.11 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو 1,424.82 پوائنٹس یعنی 0.83 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا تسلسل، انڈیکس میں 500 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ
مارکیٹ میں آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور پاور جنریشن سمیت اہم شعبوں میں سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی دیکھی گئی۔
حبکو، ماری انرجیز، پاکستان آئل فیلڈز لمیٹڈ، حبیب بینک اور نیشنل بینک سمیت انڈیکس پر اثرانداز ہونے والے بڑے شیئرز مثبت زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔
Market is up at midday 🚀
⏳ KSE 100 is positive by +1435.15 points (+0.84%) at midday trading. Index is at 173,160.44 and volume so far is 156.65 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/iFPNpHqaZn— Investify Pakistan (@investifypk) May 29, 2026
اس سے قبل پیر کے روز بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شاندار ریکوری دیکھنے میں آئی تھی، جب امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات سے متعلق مثبت توقعات، عالمی منڈی میں تیل کی
قیمتوں میں نرمی اور عید تعطیلات سے قبل جارحانہ خریداری کے باعث مارکیٹ میں زبردست تیزی ریکارڈ کی گئی تھی۔
پیر کو کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 3,881.05 پوائنٹس یعنی 2.31 فیصد اضافے کے ساتھ 171,725.29 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
مزید پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال
دوسری جانب عالمی سطح پر بھی اسٹاک مارکیٹس میں مثبت رجحان برقرار رہا۔ جمعہ کو عالمی حصص بازار ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئے جبکہ تیل کی قیمتوں میں گزشتہ تقریباً 2 ماہ کی سب سے بڑی
ہفتہ وار کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز میں شپنگ پابندیوں میں نرمی پر اتفاق ہو گیا ہے۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حتمی منظوری ابھی باقی ہے جبکہ ایرانی سرکاری میڈیا نے بھی معاہدے کو تاحال حتمی قرار نہیں دیا۔
عالمی مارکیٹوں میں بھی محتاط مثبت رجحان دیکھا گیا، جبکہ مصنوعی ذہانت سے متعلق بڑھتے رجحان نے دنیا بھر میں چپ ساز کمپنیوں کے شیئرز کو سہارا دیا، جس کے باعث ٹوکیو اور سیول کی
مارکیٹوں میں تقریباً 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔














