بین الاقوامی سطح پر جنوبی ایشیا کی جیو پولیٹیکل صورتحال میں ایک اہم تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں پاکستان ایک بار پھر عالمی سفارتی منظرنامے میں نمایاں ہوتا جا رہا ہے، جبکہ بھارت کی پاکستان کو تنہا کرنے کی پالیسی پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت کی خارجہ پالیسی نے نہ صرف مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے بلکہ بعض پہلوؤں میں اس کے الٹ اثرات سامنے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:امن کے لیے پاکستان کی کامیاب سفارتکاری، عالمی سطح پر پذیرائی، بھارت میں شدید ردعمل
عالمی امور کے ماہرین کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت نے ایک واضح حکمت عملی کے تحت پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش کی، جس میں سفارتی دباؤ، علاقائی اتحادوں سے اخراج اور پاکستان کے خلاف بیانیہ سازی شامل تھی۔ 2016 کے بعد سے بھارت نے ’دہشتگردی اور مذاکرات ساتھ نہیں چل سکتے‘ کے مؤقف کو اپنی پالیسی کا بنیادی ستون بنایا اور اسی بنیاد پر پاکستان کے ساتھ کئی علاقائی اور دو طرفہ روابط کو محدود کیا۔

تاہم موجودہ عالمی حالات اس حکمت عملی کے برعکس رخ اختیار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان اب نہ صرف چین کا ایک مضبوط اسٹریٹجک پارٹنر ہے بلکہ حالیہ برسوں میں امریکa، خلیجی ممالک اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ بھی اس کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ اسلام آباد کے بڑھتے ہوئے روابط، اہم معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں معاہدے، اور سفارتی سطح پر بڑھتی ہوئی ملاقاتیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پاکستان عالمی سفارت کاری میں دوبارہ ایک اہم کھلاڑی کے طور پر ابھر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی عسکری سفارتکاری کا عالمی اعتراف، بھارتی جریدے ’دی ہندو‘ کا دفاعی برآمدات میں اضافے کا اعتراف
تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کی سب سے بڑی حکمت عملی کی ناکامی اس وقت سامنے آئی جب 2025 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے دوران امریکا نے ثالثی کردار ادا کیا اور جنگ بندی کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ اس صورتحال نے نہ صرف بھارت کے اس مؤقف کو کمزور کیا کہ کشمیر اور دیگر تنازعات صرف دو طرفہ معاملات ہیں بلکہ عالمی برادری میں پاکستان کے کردار کو بھی مضبوط کیا۔

اسی دوران پاکستان نے فوری طور پر امریکی صدر کی سفارتی کوششوں کو سراہا جبکہ بھارت نے اس معاملے پر محتاط یا خاموش رویہ اختیار کیا، جسے ماہرین ایک سفارتی خلا قرار دیتے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان نے نہ صرف عالمی سطح پر اپنا بیانیہ بہتر انداز میں پیش کیا بلکہ مسلم دنیا میں بھی اپنی سفارتی پوزیشن کو مضبوط کیا۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم تبدیلی یہ بھی آئی کہ اس نے جنوبی ایشیائی تعاون تنظیم (سارک) کو نظر انداز کر کے BIMSTEC جیسے متبادل فورمز پر زیادہ انحصار کیا، تاہم یہ پلیٹ فارم بھی علاقائی سطح پر مؤثر کردار ادا نہ کر سکے۔ اس کے نتیجے میں خطے میں علاقائی انضمام کمزور ہوا جبکہ پاکستان نے چین، سعودی عرب، ترکی اور دیگر ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید وسعت دی۔
یہ بھی پڑھیں:عید سفارتکاری کیا ہے اور پاکستان اسے تعلقات کی بہتری کے لیے کیسے استعمال کرتا ہے؟
اسی طرح خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے بڑھتے ہوئے دفاعی اور اقتصادی روابط نے بھی اس کی سفارتی حیثیت کو نئی طاقت دی ہے۔ حالیہ برسوں میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے اور دیگر اسٹریٹجک تعاون نے خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کیا ہے۔
دوسری جانب بھارت کو امریکا کے ساتھ تعلقات میں بھی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک پارٹنرشپ اب بھی برقرار ہے، لیکن تجارتی اختلافات، روس سے تیل کی خریداری اور پالیسی اختلافات نے تعلقات میں تناؤ پیدا کیا ہے۔ بعض امریکی اقدامات اور بیانات نے بھی بھارت کی تشویش میں اضافہ کیا ہے، خاص طور پر جب واشنگٹن نے پاکستان کے ساتھ بھی بیک ڈور سفارتی روابط بڑھائے۔

ماہرین کے مطابق بھارت کی پالیسی کا ایک اور کمزور پہلو اس کا ’بہت زیادہ جارحانہ بیانیہ‘ ہے، جس نے بعض مسلم ممالک اور علاقائی ہمسایوں کے ساتھ تعلقات کو متاثر کیا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان نے نسبتاً ’سفارتی لچک‘ اور ’معاشی تعاون‘ پر مبنی حکمت عملی اپنائی ہے، جس کے باعث وہ مختلف عالمی بلاکس کے ساتھ بیک وقت روابط قائم رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اور چین کے ساتھ گہرے دفاعی و اقتصادی تعلقات نے بھی پاکستان کو خطے میں ایک اہم اسٹریٹجک حیثیت دی ہے۔ چین نے متعدد مواقع پر پاکستان کی حمایت کا اظہار کیا ہے، جس نے عالمی سفارتی توازن کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی لابنگ کے باوجود پاکستان کو امریکا میں سفارتی برتری، فیلڈ مارشل کا اہم کردار رہا، عالمی جریدے کی رپورٹ
تجزیہ کار اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ بھارت کی پاکستان کو تنہا کرنے کی کوششیں ایک ایسے وقت میں کی گئیں جب عالمی نظام پہلے ہی کثیر قطبی (ملٹی پولر) ہو رہا تھا۔ امریکا، چین، روس اور مشرق وسطیٰ کی طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے تحت مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات کو متوازن انداز میں آگے بڑھا رہی ہیں، جس نے کسی ایک ملک کو مکمل طور پر تنہا کرنا تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔

عالمی مبصرین کے مطابق پاکستان نے حالیہ برسوں میں اپنی سوفٹ ڈپلومیسی اور معاشی تعاون کے ذریعے اپنی ساکھ بہتر بنائی ہے، جبکہ بھارت کی سخت گیر پالیسیوں نے بعض مواقع پر اس کے لیے سفارتی چیلنجز پیدا کیے ہیں۔ خاص طور پر مسلم دنیا میں بھارت کے بعض داخلی سیاسی اقدامات پر سوالات اٹھے ہیں، جنہوں نے اس کے علاقائی تعلقات کو متاثر کیا۔
تجزیے کے مطابق جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا انحصار اب بھی بھارت اور پاکستان کے تعلقات کی بہتری پر ہے، خاص طور پر کشمیر کا مسئلہ اس پورے خطے میں ایک بنیادی تنازع کے طور پر موجود ہے۔ ماہرین کے مطابق جب تک دونوں ممالک کے درمیان بامعنی مذاکرات اور اعتماد سازی کے اقدامات نہیں ہوتے، خطے میں مکمل استحکام ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:2025ء بھارتی خارجہ پالیسی کی ناکامیوں اور سفارتی ہزیمت کا سال ثابت ہوا، دی ہندو کا اعتراف
آخر میں تجزیہ کار اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ بھارت کی پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوششیں نہ صرف ناکام ہوئیں بلکہ ان کے نتیجے میں پاکستان نے نئی سفارتی راہیں تلاش کر لیں۔ آج پاکستان کئی عالمی طاقتوں کے لیے ایک اہم شراکت دار کے طور پر سامنے آ رہا ہے، جبکہ بھارت کو اپنی خارجہ پالیسی پر ازسرِ نو غور کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔
بشکریہ: الجزیرہ














