عید سفارتکاری کیا ہے اور پاکستان اسے تعلقات کی بہتری کے لیے کیسے استعمال کرتا ہے؟

بدھ 27 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مختلف ممالک کے مذہبی اور ثقافتی تہوار نہ صرف اپنی قوم بلکہ دیگر اقوام کے درمیان بھی قربت، ہم آہنگی اور تعلقات کے فروغ کا ذریعہ بنتے ہیں۔ پاکستان میں عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے مواقع کو سفارتی سرگرمیوں کے لیے بھی خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے جہاں دفتر خارجہ، ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے غیر ملکی سفیروں اور سفارتی نمائندوں سے ملاقاتیں کی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کشیدگی کے دوران پاکستان کی سفارت کاری کام کرگئی، بھارت کو عالمی تنہائی کا سامنا رہا، بی بی سی

افطار ڈنرز، عید ملن تقریبات اور خصوصی دعوتوں کے ذریعے ان مواقع کو مؤثر انداز میں ’عید سفارتکاری‘ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات جنگی تناؤ، عسکری کارروائیوں اور سفارتی جمود کے دوران مذہبی و قومی تہوار ایسے مواقع فراہم کرتے ہیں جن میں نسبتاً نرم سفارتی وقفے پیدا ہو جاتے ہیں۔ ان ادوار میں ریاستیں براہِ راست مذاکرات کے بغیر بھی تعلقات کو مکمل بریک ڈاؤن سے بچانے اور رابطے کے کم از کم دروازے کھلے رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔

پاکستان کی عید سفارتکاری

جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ بحرانوں میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم پہلو ’عید سفارتکاری‘ بھی ہے جس کے تحت عید کے مواقع کو سفارتی تناؤ میں کمی، اعتماد سازی اور غیر رسمی یا بیک چینل رابطوں کے فروغ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

پاکستان نہ صرف مسلم ممالک بلکہ غیر مسلم ممالک کے ساتھ بھی عید کے موقعے پر تہنیتی پیغامات اور خیرسگالی کے تبادلے کو فروغ دیتا ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال واہگہ بارڈر پر بھارتی سیکیورٹی فورسز کو مٹھائی پیش کرنا ہے جو دونوں ممالک کے درمیان محدود مگر علامتی سفارتی رابطے کی ایک روایت سمجھی جاتی ہے۔

 عید سفارتکاری کیا ہے؟

عید سفارتکاری سے مراد کوئی باضابطہ یا رسمی پالیسی نہیں، بلکہ ایک عملی سفارتی رجحان ہے جس کے تحت مذہبی تہواروں کو تین بنیادی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ پہلا کشیدہ تعلقات میں نرمی پیدا کرنا، دوسرا بیک چینل رابطوں کو فعال یا بحال رکھنا اور تیسرا سیاسی پیغامات کو نسبتاً نرم اور غیر تصادم انداز میں منتقل کرنا۔ اس تناظر میں تہواروں کو سفارتی روابط کے لیے ایک موقع اور پلیٹ فارم کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیے: اسحاق ڈار سے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی ملاقات، پاکستان کی سفارتی کوششوں کی تعریف

مثال کے طور پر جنوری 2024 میں پاکستان اور ایران کے درمیان کشیدگی کے بعد صورتحال خاصی حساس رہی۔ تاہم عیدالفطر 2024 وہ پہلا اہم موقع تھا جب سخت بیانیے کے باوجود دونوں ممالک نے ایک دوسرے کو تہنیتی پیغامات کا تبادلہ جاری رکھا۔ اس دوران باضابطہ سفارتی چینلز مکمل طور پر بند ہونے کے بجائے محدود سطح پر فعال رہے، جبکہ پسِ پردہ علاقائی ثالثوں کے ذریعے رابطوں کا سلسلہ بھی برقرار رکھا گیا۔ اس مرحلے پر عید ایک علامتی ’اسٹیبلائزر‘ کے طور پر سامنے آئی جس نے سیاسی تناؤ کے باوجود تہذیبی اور مذہبی روابط کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کیا۔

تاہم حیران کن طور پر یہ کشیدگی طویل نہیں رہی اور چند ہی ہفتوں کے اندر سفارتی بحالی کا عمل شروع ہو گیا، جس میں عید کے مواقع نے غیر رسمی مگر اہم کردار ادا کیا۔ عیدالفطر 2024 وہ موقع تھا جب ایران نے پاکستان کے ساتھ کشیدگی میں کمی کے لیے اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے شروع کیے جن میں بعد ازاں وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان جیسے اقدامات بھی شامل ہوئے۔ عید کے تہنیتی پیغامات کے تبادلے نے یہ اشارہ دیا کہ دونوں ممالک تصادم کے بجائے محدود تعاون اور سفارتی معمولات کی بحالی کی طرف واپس آ رہے ہیں۔

اسی طرح ایک اور مثال افغانستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات کی دی جا سکتی ہے جس کا آغاز اکتوبر 2025 میں ہوا۔ سرحدی جھڑپوں، عسکری کارروائیوں اور ایک دوسرے پر دہشت گرد عناصر کی سرپرستی کے الزامات نے دونوں ممالک کے تعلقات کو شدید نقصان پہنچایا۔ اکتوبر 2025 اور فروری 2026 کے دوران دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ فوجی تصادم کی کیفیت بھی پیدا ہوئی جس کے بعد وقتی جنگ بندی اور پھر دوبارہ کشیدگی کے ادوار سامنے آئے۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب کی پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے پر زور

عیدالفطر 2026 اس بحران میں ایک اہم وقفہ ثابت ہوئی جب سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کی درخواست پر عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا۔ اس دوران سرحدی کارروائیاں عید کے دنوں میں معطل رہیں اور دونوں ممالک نے محدود سطح پر سفارتی رابطے برقرار رکھے۔

یہ وقفہ اگرچہ مستقل امن کی ضمانت نہیں تھا، تاہم اس نے ایک اہم سفارتی حقیقت کو دوبارہ واضح کیا کہ مذہبی تہوار جنگی شدت کو وقتی طور پر کم کرنے اور ڈی-اسکلیشن کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

عید کے دوران پاک افغان رابطوں کی نوعیت

اگرچہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اس عرصے میں شدید کشیدہ رہے تاہم عید کے دنوں میں قیدیوں اور سرحدی علاقوں میں پھنسے شہریوں کے حوالے سے انسانی بنیادوں پر رابطے ہوئے۔ ثالث ممالک، خصوصاً ترکیہ اور قطر نے رابطوں کے تسلسل میں کردار ادا کیا، جبکہ دونوں فریقوں نے مکمل سفارتی دروازے بند کرنے سے گریز کیا۔ اس پورے عمل کو بعض ماہرین ’کنٹرولڈ ہوسٹیلٹی ود کمیونیکیشن چینلز‘ کا ماڈل قرار دیتے ہیں۔

عید سفارتکاری کتنی مؤثر؟

ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ ’عید سفارتکاری‘ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک غیر رسمی مگر مؤثر رجحان کے طور پر موجود ہے۔ ایران کے ساتھ سنہ 2024 اور افغانستان کے ساتھ سال 2026 کے بحرانوں میں عید نے فوری رابطے کی فضا پیدا کی۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان ثالثی میں سرگرم، امید ہےایران سےمعاہدہ ہوجائیگا، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

اس دوران تہنیتی پیغامات محض رسمی نہیں رہتے بلکہ سیاسی اشارے بھی دیتے ہیں کہ فریقین مکمل تصادم کی کیفیت میں جانے کے خواہاں نہیں۔ اسی طرح عید کے دوران بیک چینل سفارتکاری کے لیے بھی نسبتاً سازگار ماحول پیدا ہوتا ہے، کیونکہ سرکاری بیانیہ نرم ہو جاتا ہے اور غیر رسمی مذاکرات کی گنجائش بڑھ جاتی ہے۔

عید سفارتکاری: باقاعدہ نظریہ نہیں مگر مؤثر رجحان

مجموعی طور پر ’عید سفارتکاری‘ کوئی باضابطہ نظریہ نہیں بلکہ ایک عملی سفارتی حکمتِ عملی ہے جو بحران کے دوران مکمل بریک ڈاؤن کو روکنے میں مدد دیتی ہے۔ اس تناظر میں عید اب صرف مذہبی تہوار نہیں رہی بلکہ خطے کی سیاست میں ایک غیر رسمی ’ڈی اسکلیشن ٹول‘ کے طور پر بھی سامنے آ رہی ہے جس کی اہمیت مستقبل میں مزید بڑھ سکتی ہے خصوصاً ایسے خطے میں جہاں جغرافیائی سیاست مسلسل غیر یقینی اور کشیدگی کا شکار رہتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp