مکہ مکرمہ میں فلکیاتی رصدگاہ کے قیام کا خیال ابتدائی سائنسی منصوبوں میں شامل تھا جس کا مقصد چاند دیکھنے اور مذہبی اوقات کے درست تعین میں مدد فراہم کرنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: جدہ میں تیزی سے تکمیل کی جانب گامزن دنیا کی بلندترین عمارت
کنگ عبدالعزیز فاؤنڈیشن کے مطابق اس رصدگاہ کی تاریخ 1366 ہجری (1947ء) سے شروع ہوتی ہے جب مسجد الحرام اور دارالحدیث کے استاد شیخ محمد عبدالرزاق حمزہ نے مکہ میں ایک جدید فلکیاتی رصدگاہ قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔
انہوں نے شاہ سعود بن عبدالعزیز آل سعود (اس وقت کے ولی عہد) کو ایک خط لکھا جس میں جدید فلکیاتی آلات جیسے تھیوڈولائٹ اور سیکسٹنٹ کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ اجرام فلکی کی درست پیمائش کی جا سکے۔
مزید پڑھیے: مکہ مکرمہ: سعودی خواتین حج سیزن میں زائرین کی خدمت میں پیش پیش
حکومتی تعاون سے یہ آلات مکہ پہنچے اور رصدگاہ کا پہلا مرکز جبل ابو قبیس کی چوٹی پر قائم کیا گیا جہاں سے چاند دیکھنے اور فلکیاتی مشاہدات کا باقاعدہ آغاز ہوا۔
وقت کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کی ترقی کے بعد رصدگاہ کو مکہ کلک ٹاور منتقل کر دیا گیا جہاں یہ آج اسلامی دنیا کی نمایاں فلکیاتی رصدگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں: مکہ مکرمہ: قرآن پاک کا 1623 میں شائع ہونے والا پہلا نادر جرمن ترجمہ نمائش کے لیے پیش
یہ رصدگاہ جدید دوربینوں اور جدید آلات سے لیس ہے جو خصوصاً رمضان اور شوال کے چاند کی رویت اور نمازوں کے اوقات کے درست تعین میں مدد فراہم کرتی ہے۔














