دلہستی اسٹیج ٹو منصوبہ: بھارت کے نئے آبی منصوبے سے سندھ طاس تنازع مزید شدت اختیار کر گیا

جمعہ 29 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں دریائے چناب کے نظام پر دلہستی اسٹیج ٹو ہائیڈرو پاور منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد پاکستان میں سندھ طاس معاہدے، آبی شفافیت اور زرعی سلامتی سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بھارت ایک جانب سندھ طاس معاہدے کے تحت تعاون کو معطل رکھے ہوئے ہے جبکہ دوسری جانب مغربی دریاؤں پر بڑے آبی منصوبوں کی توسیع خطے میں ہائیڈرو پولیٹیکل کشیدگی کو مزید گہرا کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پانی کا بحران اور سندھ طاس معاہدہ: بھارت کے یکطرفہ اقدامات سے پاکستان کو سنگین سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا

بھارتی وزارت ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی کے تحت قائم انوائرمنٹل اپریزل کمیٹی (ای اے سی) نے دریائے چناب کے نظام پر 260 میگاواٹ کے دلہستی اسٹیج ٹو رن آف دی ریور ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے کی مالیت 3 ہزار 277 کروڑ 45 لاکھ بھارتی روپے بتائی گئی ہے اور اسے مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں تعمیر کیا جائے گا۔

منصوبے کے تحت دلہستی پاور اسٹیشن اسٹیج ون سے پانی کو ایک علیحدہ 3 ہزار 685 میٹر طویل اور 8.5 میٹر قطر کی سرنگ کے ذریعے منتقل کیا جائے گا۔ اس سرنگ کے ذریعے پانی کو ایک ہارس شو نما ذخیرے (pondage) تک پہنچایا جائے گا جو اسٹیج ٹو منصوبے کا بنیادی حصہ ہوگا۔

اس کے علاوہ منصوبے میں سرج شافٹ، پریشر شافٹ اور زیرِ زمین پاور ہاؤس بھی شامل ہوگا جہاں 130،130 میگاواٹ کے 2 یونٹس نصب کیے جائیں گے۔ اس طرح منصوبے کی مجموعی پیداواری صلاحیت 260 میگاواٹ ہوگی جبکہ سالانہ بجلی پیداوار میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

منصوبے کے لیے مجموعی طور پر 60.3 ہیکٹر اراضی درکار ہوگی جس میں 8.27 ہیکٹر نجی زمین بھی شامل ہے۔ یہ زمین کشتواڑ ضلع کے بینزوار اور پالمار دیہات سے حاصل کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ: عدالت کا فیصلہ پاکستان کے حق میں، بھارت کے یکطرفہ اقدامات مسترد

تجزیہ کاروں کے مطابق اس منصوبے کی منظوری ایسے وقت میں دی گئی ہے جب بھارت سندھ طاس معاہدے کے تحت تعاون اور معلومات کے تبادلے کو محدود کر چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مغربی دریاؤں خصوصاً دریائے چناب پر اضافی سرنگوں، ذخائر اور بہاؤ کو کنٹرول کرنے والے انفراسٹرکچر کی تعمیر بھارت کی اس صلاحیت میں اضافہ کر رہی ہے کہ وہ پاکستان کی جانب جانے والے پانی کے بہاؤ پر زیادہ مؤثر کنٹرول حاصل کر سکے۔

رپورٹس کے مطابق پاکستان کی زراعت، آبپاشی اور غذائی تحفظ کا بڑا انحصار دریائے سندھ کے نظام پر ہے، جبکہ چناب جیسے مغربی دریا پاکستان کے زرعی علاقوں کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر بالائی سطح پر پانی کے بہاؤ کو منظم یا محدود کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا رہا تو اس سے پاکستان میں فصلوں کے اوقات، آبپاشی منصوبہ بندی اور طویل مدتی زرعی استحکام متاثر ہو سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا شیئر نہ کرنا اور تکنیکی شفافیت محدود کرنا سندھ طاس معاہدے کے تحت قائم اعتماد کے نظام کو کمزور کر رہا ہے۔ ان کے مطابق معاہدے کا بنیادی مقصد جنوبی ایشیا میں پانی کی منصفانہ تقسیم، پیشگوئی کے قابل نظام اور تنازعات سے بچاؤ تھا، تاہم حالیہ اقدامات اس فریم ورک کے لیے نئے سوالات پیدا کر رہے ہیں۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ دلہستی اسٹیج ٹو کو ’رن آف دی ریور‘ منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے، لیکن اضافی سرنگوں، ذخیرہ نما ڈھانچوں اور بہاؤ کنٹرول انفراسٹرکچر کے باعث ایسے منصوبے تزویراتی اہمیت اختیار کر سکتے ہیں، خصوصاً ایسے ماحول میں جہاں آبی تعاون کمزور اور سیاسی کشیدگی زیادہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل نہیں کر سکتا، عالمی ثالثی عدالت کا پاکستان کے حق میں بڑا فیصلہ

رپورٹس کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، گلیشیئرز کے پگھلاؤ اور بڑھتی ہوئی آبی قلت کے دور میں سرحد پار دریاؤں پر غیر تعاون پر مبنی پالیسیاں پورے خطے کے لیے خطرات بڑھا سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے مغربی دریاؤں پر مسلسل ہائیڈرو پاور منصوبوں کی توسیع جنوبی ایشیا میں آبی سلامتی، پائیدار آبی نظم و نسق اور بین الاقوامی آبی قوانین کے مستقبل کے حوالے سے بھی تشویش پیدا کر رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کی جانب سے ایک طرف سندھ طاس معاہدے کے مکمل تعاون کو بحال نہ کرنا اور دوسری جانب اسٹریٹجک نوعیت کے آبی منصوبوں کی توسیع وسیع تر سوالات کو جنم دے رہی ہے کہ آیا پانی کو بتدریج سیاسی دباؤ اور علاقائی اثر و رسوخ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر سندھ طاس بیسن میں اعتماد، شفافیت اور ادارہ جاتی تعاون مزید کمزور ہوا تو اس کے اثرات صرف پاکستان اور بھارت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے جنوبی ایشیا کی آبی سلامتی اور علاقائی استحکام متاثر ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp