روس اور طالبان کے درمیان بڑھتے ہوئے فوجی و سیکیورٹی تعاون نے خطے میں نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ طالبان کے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب کے حالیہ دورۂ ماسکو میں فوجی اور تکنیکی تعاون کے معاہدوں کے بعد ماہرین سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر روس ایک ایسے نظام کے ساتھ دفاعی شراکت داری کیوں بڑھا رہا ہے جس پر اقوام متحدہ اور متعدد عالمی ادارے درجنوں دہشتگرد تنظیموں کو پناہ دینے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:طالبان رجیم کی سرپرستی میں افغان دہشتگرد فرنچائزز کا پھیلاؤ، عالمی خدشات میں اضافہ
طالبان کے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب نے ماسکو کے دورے کے دوران روسی حکام کے ساتھ فوجی اور تکنیکی تعاون کے مختلف معاہدوں پر دستخط کیے، جبکہ دونوں جانب سے سیکیورٹی روابط، دفاعی تعاون اور دوطرفہ تعلقات میں توسیع کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ روسی اور طالبان حکام نے اس پیش رفت کو مستقبل کے اسٹریٹجک تعاون کا اہم مرحلہ قرار دیا۔
د معتبرو سرچینو د معلوماتو له مخې، د افغانستان اسلامي امارت د دفاع وزیر مولوي محمد یعقوب مجاهد د مسکو د سفر پر مهال له روسي چارواکو سره نظامي او تخنیکي همکارۍ یو تړون لاسلیک کړی دی.
د 'انټرفیکس' په وینا، ښاغلي مجاهد د روسیې د امنیت شورا د منشي سرګي شویګو سره په یوه غونډه کې… pic.twitter.com/EVbG8zRqMS
— OMID Radio-Pashto (@omidradio1) May 28, 2026
تاہم یہ تعاون ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل روس کی اپنی سیکیورٹی قیادت افغانستان سے بڑھتے دہشتگرد خطرات کے بارے میں سخت انتباہ جاری کر چکی تھی۔ روسی خفیہ ادارے ایف ایس بی کے سربراہ الیگزینڈر بورٹنیکوف نے خبردار کیا تھا کہ داعش خراسان افغانستان میں تاجکستان، ازبکستان، کرغزستان، قازقستان اور روسی تارکین وطن کمیونٹیز سے دہشتگردوں کی بھرتی کر رہی ہے۔ ان کے مطابق وسطی ایشیائی ریاستوں میں خفیہ نیٹ ورکس، مالیاتی چینلز اور حملہ منصوبہ بندی کے ڈھانچے تیزی سے پھیل رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان: طالبان حکومت جبر کی بنیاد پر قائم، انتشار میں اضافہ، اندر سے آوازیں اٹھنے لگیں
اسی طرح روسی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سرگئی شوئیگو نے افغانستان میں شام سے آنے والے غیر ملکی جنگجوؤں، بڑھتے ہوئے انتہاپسند انفراسٹرکچر اور 20 سے زائد دہشتگرد تنظیموں کے تقریباً 18 ہزار سے 23 ہزار جنگجوؤں کی موجودگی پر تشویش ظاہر کی۔ ان میں داعش خراسان، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، القاعدہ، ایسٹرن ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) اور اسلامک موومنٹ آف ازبکستان (آئی ایم یو) سمیت کئی گروہ شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق روس کی جانب سے طالبان کے ساتھ عسکری تعاون اس کی اپنی سیکیورٹی تشخیص سے متصادم دکھائی دیتا ہے۔ اقوام متحدہ، SIGAR، شنگھائی تعاون تنظیم اور مختلف علاقائی رپورٹس مسلسل خبردار کرتی رہی ہیں کہ طالبان کے زیرِ انتظام افغانستان مختلف شدت پسند گروہوں کیلئے محفوظ پناہ گاہ، لاجسٹک مرکز، بھرتی نیٹ ورک اور نظریاتی پلیٹ فارم بن چکا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان میں اس وقت تقریباً 5 ہزار سے 7 ہزار ٹی ٹی پی جنگجو، 2 ہزار سے 3 ہزار داعش خراسان کے عناصر اور القاعدہ کی مسلسل موجودگی برقرار ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال محض محدود شورش نہیں بلکہ ایک ہی جغرافیائی خطے میں بین الاقوامی دہشتگرد نیٹ ورکس کا خطرناک اجتماع ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں کم عمری کی شادیوں سے متعلق نئے قواعد پر تشویش، طالبان کی قانونی منظوری کا دعویٰ
طالبان حکومت امریکی و نیٹو افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں چھوڑے گئے بڑے فوجی ذخائر کی وارث بن چکی ہے۔ اب طالبان نہ صرف اپنی فوجی صلاحیت بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ روس سمیت نئے دفاعی شراکت داروں اور اسلحہ خریداری کے ذرائع بھی تلاش کر رہے ہیں۔ ماضی میں SIGAR اور اقوام متحدہ کی رپورٹس میں یہ خدشہ ظاہر کیا جا چکا ہے کہ افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ مختلف دہشتگرد گروہوں کے ہاتھوں میں پہنچ چکا ہے۔
رپورٹ میں مالیاتی پہلوؤں پر بھی سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان کو اب بھی ہفتہ وار تقریباً 4 کروڑ ڈالر کی امریکی مالی امداد موصول ہو رہی ہے، جبکہ طالبان بیک وقت فوجی تعاون، دفاعی خریداری اور عسکری توسیع پر کام کر رہے ہیں۔ ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا یہ مالی وسائل بالواسطہ طور پر طالبان کی عسکری طاقت اور دوبارہ اسلحہ بندی کو تقویت تو نہیں دے رہے۔

علاقائی سلامتی کے حوالے سے اس کے اثرات پہلے ہی نمایاں ہو چکے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق صرف 2025 کے دوران افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف 600 سے زائد دہشتگرد حملے کیے گئے جبکہ سرحد پار دراندازی اور دہشتگردی کے واقعات مسلسل جاری ہیں۔ اسی طرح افغانستان سے سرگرم دہشتگرد عناصر تاجکستان میں سرحد پار حملوں میں چینی شہریوں کی ہلاکتوں سے بھی منسلک رہے ہیں۔
روس کے سیکیورٹی حکام پہلے ہی وسطی ایشیا اور روس کے اندر داعش خراسان کی بھرتی مہموں سے خبردار کر چکے ہیں۔ چین، تاجکستان اور دیگر وسطی ایشیائی ممالک بھی افغانستان سے پھیلنے والی شدت پسندی اور عدم استحکام پر مسلسل تشویش ظاہر کرتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان رجیم کے ’اصول‘: حصول تعلیم مرد و عورت دونوں پر فرض پھر لاکھوں لڑکیاں علم سے محروم کیوں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ماسکو ماضی میں بھی طالبان کے ساتھ رابطے برقرار رکھتا آیا ہے اور اب وہ طالبان کو اپنے تزویراتی دائرۂ اثر میں مزید گہرائی تک شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر تنہا طالبان حکومت کو روس اپنے کم لاگت مگر مؤثر اتحادی کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے، جس کے نتیجے میں طالبان کو سیاسی تحفظ، عسکری گہرائی اور سفارتی سہارا حاصل ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایک ایسے نظام کو عسکری طور پر مضبوط کرنا، جس پر 20 سے زائد دہشتگرد تنظیموں کو پناہ دینے اور سہولت فراہم کرنے کے الزامات موجود ہوں، پورے خطے کیلئے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان کی عسکری مضبوطی، اسلحہ بندی اور بیرونی تعاون خطے میں انتہاپسند نیٹ ورکس، جبر پر مبنی حکمرانی اور عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتا ہے، جس کے اثرات پاکستان، روس، چین، تاجکستان، وسطی ایشیا اور وسیع علاقائی سلامتی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔














