بنگلہ دیش میں عیدالاضحیٰ کے موقعے پر تاجروں اور ٹینری مالکان کی من مانی کے باعث خام چمڑے کی منڈی ایک بار پھر شدید بحران کا شکار ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت اور بنگلہ دیش کی سرحد پر کشیدگی، سینکڑوں افراد ہولڈنگ سینٹرز میں منتقل
تاجروں اور ٹینری مالکان کی جانب سے حکومت کی مقرر کردہ قیمتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے قربانی کے جانوروں کی کھالیں سرکاری نرخوں سے کہیں کم قیمت پر خریدی گئیں جس کے باعث موسمی تاجروں، مدارس اور یتیم خانوں کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
حکومت نے اس سال نمک لگی گائے کی کھال کی قیمت ڈھاکا میں 62 سے 67 ٹکہ فی مربع فٹ مقرر کی تھی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 2 ٹکہ زیادہ تھی تاکہ عید کے دوران فروخت کنندگان کو مناسب معاوضہ مل سکے۔ تاہم زمینی صورتحال سے ظاہر ہوا کہ ملک بھر میں اصل خرید و فروخت ان سرکاری نرخوں سے کافی کم رہی۔
موسمی تاجروں کے مطابق گائے کی کھال گزشتہ سال کے مقابلے میں 150 سے 200 ٹکہ کم میں فروخت ہوئی جبکہ بکری کی کھال کی طلب انتہائی کمزور رہی۔
مزید پڑھیے: بنگلہ دیش میں خسرہ بحران سنگین، بچوں کی اموات 500 سے تجاوز کر گئیں
کئی مقامات پر بکری کی کھالیں صرف 5 سے 10 ٹکہ میں فروخت ہوئیں جبکہ بعض تاجروں کا کہنا ہے کہ کچھ خریدار کھالیں بغیر ادائیگی کے ہی لے گئے۔
ڈھاکا کے سب سے بڑے خام چمڑا مرکز پوستا، لالباغ میں تاجروں نے شکایت کی کہ حکومت کے مقرر کردہ نرخوں پر عملدرآمد نہیں کرایا گیا۔ ان کا الزام ہے کہ چند بااثر تاجر اور ٹینری مالکان منڈی کو کنٹرول کرکے قیمتیں دبا رہے ہیں۔
صنعت سے وابستہ افراد کے مطابق ایک خام کھال کو محفوظ کرنے پر 300 سے 350 ٹکہ تک لاگت آتی ہے جس میں نمک، مزدوری اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات شامل ہیں لیکن اس کے باوجود کئی کھالیں اتنی کم قیمت پر فروخت ہوئیں کہ لاگت بھی پوری نہ ہوسکی۔
ایک تاجر اکمل حسین 20 گائے کی کھالیں لے کر پوسٹا، لال باغ پہنچے اور فی کھال 1000 ٹکہ طلب کیے مگر خریداروں نے 650 ٹکہ سے زیادہ قیمت دینے سے انکار کردیا۔ انہوں نے قیمت کم کرکے 800 ٹکہ بھی کی لیکن پھر بھی کوئی خریدار نہ ملا۔
مزید پڑھیں: بند فیکٹریاں اب دوبارہ چلیں گی، بنگلہ دیش بینک نے 5 ارب ڈالر کے امدادی پیکج کا اعلان کردیا
ڈھاکا کے مختلف علاقوں میں کیے گئے سروے کے مطابق چھوٹی گائے کی کھال 250 سے 450 ٹکہ، درمیانے درجے کی 500 سے 650 ٹکہ اور بڑی کھال 700 سے 900 ٹکہ میں فروخت ہوئی جبکہ سرکاری نرخوں کے مطابق درمیانے درجے کی کھال کی قیمت 1300 سے 1850 ٹکہ اور بڑی کھال کی قیمت 2000 ٹکہ سے زائد ہونی چاہیے تھی۔
موسمی تاجروں کا کہنا ہے کہ وہ بڑی حد تک ٹینری مالکان اور بڑے تھوک خریداروں پر انحصار کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے پاس سودے بازی کی طاقت نہیں ہوتی۔ اس کا مالی بوجھ بالآخر قربانی کرنے والوں، مساجد، مدارس اور فلاحی اداروں پر پڑتا ہے۔
دوسری جانب ٹینری نمائندوں نے کم قیمت پر خریداری کے الزامات مسترد کر دیے۔
بنگلہ دیش ٹینرز ایسوسی ایشن کے سینیئر نائب چیئرمین سخاوت اللہ نے دعویٰ کیا کہ کھالوں کی قیمت گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 سے 50 ٹکہ بڑھی ہے اور انہوں نے خود 650 سے 950 ٹکہ فی کھال کے حساب سے خریداری کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: گنگا واٹر شیئرنگ معاہدے کے مستقبل پر بنگلہ دیش اور بھارت کی خاموشی، جے آر سی اجلاس ختم
تاہم زمینی سطح پر موجود تاجروں کے مطابق شام کے وقت کاروبار میں تیزی آنے کے باوجود قیمتوں میں کوئی خاص بہتری نہیں دیکھی گئی۔
کھالوں کی منڈی میں مسلسل کمزوری بنگلہ دیش کے مدارس اور یتیم خانوں کے لیے تشویش کا باعث بنتی جا رہی ہے کیونکہ ان میں سے کئی ادارے اپنے بورڈنگ، تعلیم اور فلاحی منصوبوں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے عید کی کھالوں سے حاصل ہونے والی آمدن پر انحصار کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کے اعلیٰ سول افسران کے وفد کا وزارت خارجہ کا دورہ، اسحاق ڈار کا خیرمقدم
ڈھاکا کے علاقے خلیگاؤں میں واقع نظم الحق مدینۃ العلوم کامل مدرسہ کے پرنسپل محبوب اللہ نے الزام عائد کیا کہ چمڑے کے شعبے کو منظم انداز میں نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور خبردار کیا کہ اگر مناسب قیمتوں کی فراہمی یقینی نہ بنائی گئی تو مذہبی تعلیمی اداروں کو مزید نقصان اٹھانا پڑے گا۔














