امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستے پر فیس عائد کرنے سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان مبینہ مذاکرات پر عمان کو سخت وارننگ دے دی۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز سب کے لئے کھلی رہے گی کیونکہ یہ بین الاقوامی پانی ہے۔
انہوں نے عمان کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس نے مختلف طرزِ عمل اپنایا تو امریکا سخت کارروائی کرسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا جوہری مذاکرات: ثالث عمان مزید پیشرفت کے لیے پر امید
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے مشترکہ انتظام پر بات چیت کررہے ہیں۔
یہ آبی گزرگاہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لئے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد ایران نے اس علاقے میں اپنی عسکری موجودگی بڑھادی تھی۔
Trump threatens to "blow up" U.S. ally Oman over Strait of Hormuz https://t.co/p5x0FmjWwY
— TIME (@TIME) May 28, 2026
تین ماہ سے جاری جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش یا محدود رسائی نے عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور بین الاقوامی تجارت میں شدید خلل پیدا کیا۔
امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کے بحری محاصرے سمیت مختلف اقدامات کے باوجود تجارتی جہاز رانی مکمل طور پر بحال نہ ہوسکی۔
ادھر امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران پر دباؤ برقرار رکھیں گے اور کسی جلد بازی میں نہیں ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکا کے ایران پر نئے فضائی حملے، اہم فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا
ان کا کہنا تھا کہ ایران یہ سمجھ رہا ہے کہ امریکا آئندہ وسط مدتی انتخابات کے باعث جلد معاہدہ چاہے گا، تاہم انہیں انتخابات کی پروا نہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق امریکا نے ایران کے شہر بندر عباس میں ایک فوجی تنصیب پر حملہ کیا، جبکہ امریکی حکام نے دعویٰ کیا کہ ایران کے متعدد ڈرونز کو آبنائے ہرمز کے قریب تباہ کیا گیا۔
اس کے جواب میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم حملے کی جگہ واضح نہیں کی گئی۔
مزید پڑھیں: پی آئی اے کا عمان سے پاکستان پروازیں دوبارہ بحال کرنے کا اعلان
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایرانی بحریہ نے ایک امریکی آئل ٹینکر پر بھی فائرنگ کی جو مبینہ طور پر ریڈار بند کرکے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کررہا تھا۔
دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے سے متعلق متضاد اطلاعات بھی سامنے آرہی ہیں۔
ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا مشترکہ انتظام سنبھالیں گے اور امریکا اپنی بحری پابندیاں ختم کرے گا۔
مزید پڑھیں: ایران کا بحری جہازوں سے شہریوں کی واپسی میں مدد پر پاکستان سے اظہار تشکر
تاہم صدر ٹرمپ نے ان خبروں کو مسترد کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ایران کو اپنے افزودہ یورینیم پروگرام سے دستبردار ہونا ہوگا۔
ایران مسلسل مؤقف اختیار کررہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور متضاد بیانات نے خطے میں امن معاہدے کے امکانات کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔













